رہائشی پلاٹوں کی کمرشل استعمال جاری، ٹائون پلاننگ ونگ سزائوں پر عمل نہ کراسکا
رہائشی علاقوں میں دکانیں، دفاتر ، سکول بدستور قائم ، ایل ڈی اے نے 3 سال قبل سخت اقدامات کی منظوری دی، فیصلہ بے اثر ناجائز کمرشل سرگرمیوں کیخلاف کارروائی پراپرٹیز سیل اور جرمانے کرنے تک محدود،نادہندگان کا ریکارڈ بلاک،کنکشنز منقطع نہ ہوسکے
لاہور(شیخ زین العابدین )لاہور میں رہائشی علاقوں کو غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں سے بچانے کیلئے ایل ڈی اے نے 3سال قبل سخت اقدامات کی منظوری دی مگر عملی طور پر فیصلہ بے اثر ثابت ہوا۔غیر قانونی کمرشل استعمال پر سالانہ جرمانے کیساتھ یوٹیلیٹی کنکشنز منقطع کرنے اور نادہندگان کا ریکارڈ بلاک کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھاتاہم 3 سال گزر گئے ، رہائشی پلاٹوں پر دکانیں، دفاتر اور سکول بدستور قائم ہیں اور ایل ڈی اے کا ٹاؤن پلاننگ ونگ منظور شدہ سزاؤں پر عملدرآمد نہ کرا سکا۔اب صورتحال یہ ہے کہ غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کیخلاف کارروائی پراپرٹیز سیل کرنے اور جرمانے کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔
دستاویزات کے مطابق ایل ڈی اے اتھارٹی نے 22 نومبر 2023 کو اسوقت کے چیئرمین محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں غیر قانونی کمرشل استعمال کیخلاف سالانہ جرمانے کرنے کی منظوری دی تھی۔فیصلے کے مطابق 5مرلہ تک رہائشی پلاٹ پر غیر قانونی کمرشل سرگرمی پر ویلیو کا ایک فیصد سالانہ جرمانہ مقرر کیا گیا۔5سے10مرلہ تک پلاٹ پر ایک اعشاریہ 25فیصد،10مرلہ سے کنال تک ایک اعشاریہ 5 فیصد جبکہ ایک کنال سے بڑے پلاٹ پر ایک اعشاریہ 75 فیصد سالانہ جرمانہ ہونا تھا اور اسکا اطلاق ناجائزکمرشل استعمال کی نشاندہی کی تاریخ سے ہونا تھا اور جب تک خلاف ورزی جاری رہتی، ہر سال جرمانے کی رقم میں اضافہ ہونا تھا۔
منظوری میں واضح کیا گیا تھا کہ جرمانہ ادا کرنے سے پراپرٹی کا کمرشل استعمال قانونی حیثیت اختیار نہیں کرے گا۔ جرمانہ وصولی ریگولرائزیشن یا پراپرٹی منتقلی کے وقت بھی ممکن تھی۔نادہندگان کیخلاف مزید سخت اقدامات بھی تجویز کیے گئے تھے ۔جرمانہ ادا نہ کرنیوالوں کی فائلیں ہاؤسنگ ڈائریکٹوریٹ یا اے ڈی سی ریونیو کو بھجوانے ، پراپرٹی ریکارڈ بلاک کرنے اور فائلوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ ناجائز کمرشل استعمال جاری رکھنے والوں کے بجلی، گیس اور پانی کے کنکشن منقطع کرنے کی کارروائی بھی منظوری کا حصہ تھی تاہم 3 سال گزرنے کے باوجود ان اقدامات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی دکانوں، دفاتر اور تعلیمی اداروں کے قیام کا سلسلہ جاری ہے ، 3 سال قبل منظور کیا گیا سخت ترین لائحہ عمل بھی لاہور میں غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کا راستہ روکنے میں ناکام ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments