خواتین میں منشیات کے استعمال کا رجحان بڑھ گیا
لڑکیاں ذہنی تناؤ ، احساس کمتری ، بدسلوکی ، گھریلو ناچاقی یا وزن گھٹانے کیلئے نشہ کرتی ہیں، جرائم میں بھی ملوث ہونے لگی ہیں
منشیات کا سب سے زیادہ استعمال تعلیم یافتہ اور امیر طبقے کی خواتین کرتی ہیں ، شیشے کی لعنت میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہےکراچی (رپورٹ :اسماء ایوب خان )پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والی خواتین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جو کہ خطرے کی گھنٹی ہے ، معاشرے کی عام نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ کئی مشہور خواتین بھی اس وبا سے دور نہیں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق خواتین جہاں مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں وہاں وہ منشیات کے استعمال میں بھی نمایاں ہوچکی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے جن میں 10 فیصد خواتین ہیں اور ان میں ہرسال چھ لاکھ خواتین کا اضافہ ہورہا ہے۔ روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے ایک سروے کے مطابق منشیات کاسب سے زیادہ استعمال تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خوشحال خواتین کررہی ہیں،منشیات کے استعمال کی عادی خواتین میں پینتالیس فیصد ایسی خواتین ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں جبکہ کئی خواتین اورنوجوان لڑکیاں ذہنی تناؤ ، احساس کمتری ، بدسلوکی ، گھریلو ناچاقی یا وزن گھٹانے کے لیے بھی منشیات کا استعمال کرتی ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق منشیات استعمال کرنے والی خواتین میں مایوسی، بے چینی اور کمزور ہونے کا احساس زیادہ ہوتا ہے ۔جب سے شیشہ (نشے کی ایک جدید قسم) آیا ہے اس لعنت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک گھنٹہ شیشہ پینا سو سگریٹ پینے کے برابر ہے ، شیشہ دوسری نشہ آور چیزوں کی طرف پہلا قدم ہے ا ور آج کل نوعمر لڑکیاں اسے بطورفیشن اپنا رہی ہیں۔ دوسری طرف خواتین مجرمانہ کارروائیوں میں بھی نظرآرہی ہیں،یہ راستہ بھی منشیات کے استعمال سے ہی شروع ہوتاہے ، نشے کے اخراجات پورا کرنے کے لیے مردوں کی طرح خواتین بھی جرائم کرتی ہیں۔حکومت کی جانب سے منشیات کے عادی افرادکی بحالی کے لیے سنجیدگی نہ ہونے کی صورت میں نوجوان نسل تیزی کے ساتھ نشے کی دلدل میں دھنستی جارہی ہے ۔ منشیات کے استعمال کی بنیادی وجہ کم قیمت اور بآسانی فروخت ہے ۔ایک نوجوان لڑکی کو تین سو روپے میں پورے دن کے نشے کا سامان بآسانی مل جاتاہے ۔