اراضی کا عدم حصول ،اہم سڑکوں کا منصوبہ ادھورا
متعدد اہم مقامات پر مسنگ لنکس کی عدم تعمیر نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ،اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے بھی نامکمل رہ گئے نئی پالیسی میں اتھارٹی کے مالی مفادات کو مرکزی حیثیت دی جا رہی :ذرائع، مسنگ لنکس کیلئے نئی پالیسی بن رہی، منظوری گورننگ باڈی سے لی جائے گی:حکام
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )لاہور میں ٹریفک کا بوجھ کم کرنے اور شہر کو جدید روڈ نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے بنائی گئی سٹرکچر پلان روڈز ایک دہائی گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکیں۔متعدد اہم مقامات پر مسنگ لنکس کی عدم تعمیر نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا بلکہ اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے بھی ادھورے رہ گئے ۔ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے ان سڑکوں کے لیے درکار اراضی بروقت ایکوائر نہ کر سکا، جس کی بڑی وجہ وہ پالیسی بنی جس کے تحت زمین کے عوض سو فیصد مفت کمرشل رائٹس دیے جاتے رہے ۔اس پالیسی کے باعث ایسے مقامات پر بھی کمرشلائزیشن فیس وصول نہیں کی جا سکی جہاں اتھارٹی باقاعدہ ریونیو حاصل کر سکتی تھی۔کئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اندر سے گزرنے والی روڈز پر کسی قسم کے کمرشل رائٹس نہ دیے جانے سے بھی پالیسی میں تضاد نمایاں ہوتا رہا۔
اب ایل ڈی اے انتظامیہ نے اس پورے نظام پر نظرثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے نئی کمیٹی تشکیل دینے کی تیاری شروع کر دی ہے ۔یہ کمیٹی ہر منصوبے کا الگ جائزہ لے گی اور فیصلہ کرے گی کہ مسنگ لنکس کی تعمیر کے لیے زمین ایکوائر کی جائے یا محدود کمرشل رائٹس دیے جائیں۔ذرائع کے مطابق نئی پالیسی میں اتھارٹی کے مالی مفادات کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے تاکہ ایک طرف روڈ انفراسٹرکچر مکمل ہو اور دوسری جانب قومی خزانے کو ممکنہ نقصان سے بھی بچایا جا سکے ۔ایل ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ مسنگ لنکس کے لیے نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے جس کی منظوری گورننگ باڈی سے لی جائے گی، جبکہ بعد ازاں پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد سٹرکچر پلان روڈز پر کمرشل رائٹس سے متعلق نئی پالیسی باقاعدہ نافذ کر دی جائے گی۔لاہور میں برسوں سے رکے سٹرکچر پلان روڈز منصوبوں کو فعال بنانے کے لیے ایل ڈی اے کی نئی پالیسی ان سڑکوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔