کورنگی ،خواتین ،بچوں سمیت 5افراد گہرے خشک کنویں میں گر کر زخمی
مہران ٹاؤن سیکٹر 6آئی ہزارچوک کے قریب سیوریج کے کئی فٹ گہرے کنویں کی چھت گاڑی کے وزن سے ٹوٹ گئی حادثے میں زخمی ہونے والے اعظم خان کوہاٹی کے بیٹے کی شادی تھی اورباراتی شادی ہال جا رہے تھے ،زخمی اسپتال منتقل
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کورنگی مہران ٹاؤن سیکٹر 6آئی ہزارچوک کے قریب واقع مدرسۃ المدینہ فیضان کنزالایمان کے سیوریج کے کئی فٹ گہرے خشک کنویں میں 2 خواتین اور2 کم عمربچوں سمیت 5 افراد گرگئے جنہیں نکالنے کے لیے علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔اسی دوران ریسکیو1122 عملے ، ایدھی فاؤنڈیشن اورپولیس کو بھی طلب کرلیا گیا،ریسکیو1122 عملے ،ایدھی فاؤنڈیشن نے طویل کوششوں کے بعد علاقہ مکینوں کی مدد سے خشک کنویں میں گرنے والے افرادکو زخمی حالت میں نکال کرفوری جناح اسپتال منتقل کردیا جہاں ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ۔خشک کنویں میں گرکرزخمی ہونے والوں میں 40 سالہ دلشاد زوجہ شوکت ،55 سالہ شمیم ، 60 سالہ اعظم خان اور 2 کم عمر بچوں 15 سالہ مریم خان اور12 سالہ عثمان شامل ہے ۔انچارج ریسکیو1122 علی رضا کے مطابق سیوریج کے خشک کنویں میں گرنے والے افراد قریب ہونے والی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے اورگاڑی کے وزن سے خشک کنویں کی چھت ٹوٹ گئی اور گاڑی سے اترتے ہی تمام افراد خشک کنویں میں گرگئے تھے جنہیں بحفاظت نکال کراسپتال منتقل کردیا گیا۔علاقہ مکینوں نے بتایاکہ حادثے میں زخمی ہونے والے اعظم خان کوہاٹی کے بیٹے کی شادی تھی اورباراتی شادی ہال جا رہے تھے باراتیوں کو شادی ہال لے جانے کے لیے ایک بڑی گاڑی آئی تھی اور گاڑی کے وزن سے خشک کنویں کی چھت ٹوٹ گئی جس کے نتیجے میں بس سے اترنے والی 2 خواتین اور2 بچے خشک کنویں میں جا گرے ۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ خشک کنواں 60 سے 70 فٹ گہرا تھا ،کنویں میں گرنے والے افراد کوبچانے کے لیے اعظم کوہاٹی نے بھی کنویں میں چھلانگ لگادی۔پانچوں افراد کوعلاقہ مکینوں کی مدد سے نکال کر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔ ایس ایچ او کے آئی اے ناصرمحمود نے بتایا کہ قریبی علاقے میں شادی کی تقریب ہوری ہے اورایک فیملی یہاں سے گزر رہی تھی۔اتفاقیہ طورپرخشک کنویں کی چھت ٹوٹ گئی اورفیملی خشک کنویں میں جا گری اسی دوران ایک اورشہری انہیں بچانے کے لیے کنویں میں چلا گیا جس کے نتیجے میں پانچویں افراد زخمی ہوگئے جنہیں اسپتال روانہ کیاگیا ہے حادثے میں ایک خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔ایس ایچ او نے بتایا کہ علاقے میں گٹرلائن ڈلنے سے قبل علاقے میں واقع مدرسے کی اتنظامیہ کی جانب سے سیوریج کا کنویں کھودا گیا تھا علاقے میں سیوریج لائن ڈالنے کے بعد سیوریج کنویں کو بند کردیا گیا تھا۔