مچھروں کی بہتات،ملیریا کے کیسز میں خطرناک اضافہ،جراثیم کش اسپرے مہم شروع نہ ہو سکی
نجی اسپتالوں اور کلینکس میں درجنوں کیسز رپورٹ ،ضلع جنوبی سب سے زیادہ متاثر،مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریاں وبا کی صورت اختیار کرسکتی ہیں،طبی ماہرین کا انتباہ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)انتظامیہ کی غفلت اور جراثیم کش اسپرے نہ ہونے کی وجہ سے مچھروں کی نشوونما میں تیزی آگئی ہے جبکہ مچھروں کے کاٹنے کے بعد ملیریا کے کیسز میں خوفناک اضافہ ہورہا ہے ۔شہر کے نجی اسپتالوں اور محلوں میں موجود کلینکس کے ڈاکٹرز کے مطابق ان کے پاس بخار کی شکایت سے آنے والے 80 فیصد مریضوں میں ڈینگی اور چکن گونیا کی علامات پائی جاتی ہیں، تاہم مہنگائی کی وجہ سے مریض ٹیسٹس نہیں کروا پاتے ۔اس وقت کراچی میں چکن گونیا کے ٹیسٹ کی نارمل فیس 4 ہزار روپے جب کہ ڈینگی کے ٹیسٹ کی فیس بھی 2 ہزار روپے تک ہے ، اس لیے ڈاکٹرز کمپلیٹ بلڈ کائونٹ (سی بی سی) ٹیسٹ سے اندازہ لگا کر مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے ہونے والی بیماریوں کے وبا کی صورت اختیار کرجانے کا خدشہ ہے ۔علاوہ ازیں شہر میں وائرل بخار بھی تیزی سے پھیل رہا ہے ، جس کی علامات بھی چکن گونیا، ڈینگی اور ملیریا سے ملتی جلتی ہیں جب کہ ماہرین کے مطابق شہر میں وائرل بخار کے ایسے کیسز بھی تیزی سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب شہریوں نے انتظامیہ کی غفلت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جراثیم کش اسپرے نہ ہونے کے باعث مچھروں کی تعداد میں خوفناک اضافہ ہوگیا ہے ، ڈینگی اور ملیریا جیسے امراض کا علاج غریب اور متوسط طبقے کے لیے انتہائی مشکل ہوگیا ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں بجلی اور گیس کے مہنگے بل ادا کریں یا مہنگا علاج کرائیں۔