سپلاکا 12فروری کوبلاول ہاؤس پردھرنے کااعلان

سپلاکا 12فروری کوبلاول ہاؤس پردھرنے کااعلان

مطالبات کے حق میں 2فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے علامتی دھرناصوبے کے آدھے سے زائد کالجوں میں مستقل پرنسپل نہیں ہیں ،اجلاس

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سندھ بھر کے کالج اساتذہ مطالبات کے حق میں 2 فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے علامتی دھرنا اور 12 فروری کو بلاول ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن (سپلا)کراچی ریجن کی ایگزیکٹیو کونسل کا کالج اساتذہ کے مسائل اور مطالبات پر اجلاس ہوا۔جس میں مرکزی صدر سپلا منور عباس نے کہا کہ سردار شاہ نے سندھ اسمبلی میں کالج اساتذہ کو فائیوٹیئر دینے کا اعلان کیا تھا۔سندھ کے کالجز کھنڈر بن چکے ہیں، مطالبات کے حق میں کراچی کے اساتذہ 2 فروری کو سندھ اسمبلی کے سامنے علامتی دھرنا دیا جائے گا اور اگر مسائل نہ حل ہوئے تو سندھ بھر کے کالج اساتذہ 12 فروری کو بلاول ہاؤس دھرنا دیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہزاروں خالی اسامیوں پر لیکچررز کی ڈی پی سی، بورڈ ون اور بورڈ ٹو کا انعقاد نہ ہونے سے کالج اساتذہ مایوس ہے جبکہ کالجز میں سویپر، چوکیدار، چپڑاسی کی ہزاروں سیٹیں خالی، کالجز سے چوریاں معمول بن چکا اور کالجز کچرا کنڈی کا منظر پیش کرنے لگے ۔سپلا نے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اپنے قیام سے ابتک انٹرمیڈیٹ کی کمپیوٹر سائنس اور کامرس کی کتابیں شایع نہیں کرسکا۔انھوں نے مزید کہا سندھ کے آدھے سے زائد کالجوں میں مستقل پرنسپل تعینات نہیں کیے گئے ہیں، 2008 سے ہاؤس رینٹ، کنوینس اور میڈیکل الاؤنسز کو منجمد کیا ہوا ہے ، جس میں مہنگائی کی شرح سے اضافہ کیا جائے ۔ اجلاس میں بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچرارز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ کی گرفتاری اور جیل کسٹڈی کی شدید مذمت کی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں