میر پورخاص:نارا کینال سے فراہم کردہ پانی مضرصحت ہونیکا انکشاف
ٹی ڈی ایس لیول 350 سے زائد، پینے کے پانی کا بحران شدید ہو گیا،عوام پریشانی کا شکار شہری زیر زمین پانی کے استعمال پر مجبور، جگر سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے
میرپورخاص (بیورو رپورٹ)میرپورخاص شہر کی 12 لاکھ سے زائد آبادی کو پینے کا پانی فراہم کرنے والی واٹر سپلائی اسکیموں کو نارا کینال کی مختلف شاخوں سے فراہم کیا جانے والا پانی انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سالانہ وارہ بندی کے بعد جب واٹر سپلائی اسکیموں کے لیے فراہم کیے جانے والے پانی کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے تو معلوم ہوا کہ پانی کا ٹی ڈی ایس لیول 350 سے زیادہ ہے جو انسانی جانوں کے لیے نہایت خطرناک ہے ۔ ذرائع کے مطابق میرپورخاص کے چند علاقوں کے علاوہ شہر کے بیشتر علاقوں میں زیر زمین پانی کھارا ہے اور اس کا ٹی ڈی ایس لیول 550 سے 700 تک ہے جو انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے تاہم پانی کی قلت کے باعث شہری زیر زمین پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں شہری جگر سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
سالانہ وارہ بندی کی وجہ سے شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے والی واٹر سپلائی اسکیموں میں پانی کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے جس کے باعث شہر کے 75 فیصد علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے اور شہر میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا ہے ۔ شہریوں نے میئر میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ شاخوں میں پانی کی صورتحال کے حوالے سے رابطہ کرنے پر جمڑاؤ کینال کے ایکس ای این معاذ آرائیں نے بتایا کہ وارہ بندی کے بعد جمڑاؤ کینال میں پانی پہنچ چکا ہے اور شہر کے 50 فیصد سے زائد علاقوں کو پانی فراہم کرنے والی سیٹلائٹ ٹاؤن واٹر سپلائی اسکیم کو آج یا کل سے پانی کی فراہمی شروع کر دی جائے گی، جس سے پانی کی قلت ختم ہو جائے گی۔