شرح سود برقرار رکھنا کاروبار کیلئے نقصاندہ ہے ، سکھر چیمبر
موجودہ حالات میں بلند شرحِ سود کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں بڑی رکاوٹ تجارت کوسہارا دینے کیلئے شرح سود سنگل ڈیجٹ میں لائی جائے ، سرپرست وقار محمود
سکھر(بیورو رپورٹ)سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا اسٹیٹ بینک کے شرحِ سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر سخت ردعمل تفصیلات کے مطابق سکھر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سرپرستِ اعلیٰ وقار محمود خان، FPCCI کے نائب صدر و سندھ ریجنل چیئرمین بلال وقار خان، چیمبر کے صدر محمد خالد کاکیزئی، سینئر نائب صدر امیت کمار، نائب صدر ملک محمد اویس رئیس، کنوینر بینکنگ کمیٹی عبدالمجید قریشی و دیگر عہدیداران نے نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرحِ سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے کاروباری برادری اور صنعتی شعبے کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں بلند شرحِ سود سرمایہ کاری، صنعت اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے ، بزنس کمیونٹی اور صنعتی حلقے مسلسل اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ شرحِ سود کو فوری طور پر سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے تاکہ صنعت و تجارت کو سہارا مل سکے اور معیشت میں بہتری آئے ۔چیمبر کے عہدیداران نے کہا کہ مہنگی بجلی، بلند شرحِ سود اور کاروبار کرنے کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے پاکستانی صنعتیں بین الاقوامی منڈی میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہیں۔ اگر شرحِ سود میں نمایاں کمی نہ کی گئی تو نہ صرف صنعتی پیداوار متاثر ہوگی بلکہ برآمدات میں اضافہ بھی ممکن نہیں ہوگا۔