زیریں سندھ میں ماحولیاتی نظام شدید خطرات کی لپیٹ میں
بدین، ٹنڈو محمد خان، سجاول، ٹھٹھہ میں آنیوالے مہمان پرندے نایاب ہونے لگےموسمی شدت، طوفان، فصلوں پر زہریلے اسپرے ، درخت کٹائی اسباب، ماہرین
پنگریو(نامہ نگار)خوبصورت، مفید اور مہمان پرندے نایاب ہونے لگے ۔ زیریں سندھ کے اضلاع بدین، ٹنڈو محمد خان، سجاول اور ٹھٹھہ میں ماحولیاتی نظام شدید خطرات سے دوچار ہے ۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمی شدت، طوفان، زرعی فصلوں پر زہریلی ادویات کے بے دریغ اسپرے ، درختوں اور جنگلات کی کٹائی اور ناسازگار ماحول نے علاقے کے قدرتی ایکو سسٹم کو بری طرح متاثر کیا۔ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو آئندہ برسوں میں متعدد پرندوں کی نسلیں مکمل طور پر معدوم ہونے کا خدشہ ہے ۔ مقامی افراد اور کسانوں کا کہنا ہے کہ چند سال پہلے تک زیریں سندھ کے کھیتوں، باغات اور نہری علاقوں میں رنگ برنگے اور دلکش پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے تھے۔ ان میں تیتر، فاختہ، بلبل، کوئل، چڑیا، مینا، طوطا، ہدہد، کبوتر اور دیگر کئی مہمان پرندے شامل تھے۔
مگر اب ان کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے اور بعض پرندے شاذ و نادر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی، خشک سالی اور گرد آلود طوفانوں کی شدت میں اضافہ پرندوں کے قدرتی مسکن کیلئے خطرناک ہے ۔ زرعی فصلوں کو بچانے کے لیے بے دریغ استعمال ہونے والی کیڑے مار زہریلی ادویات بھی پرندوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن گئی ہیں کیونکہ یہ پرندے انہی کھیتوں میں موجود کیڑے مکوڑے کھا کر زہر اپنے جسم میں منتقل کر لیتے ہیں، جس سے وہ بیمار اور کمزور ہو جاتے ہیں۔ درختوں اور جھاڑیوں کی بے دریغ کٹائی نے بھی پرندوں کے گھونسلے ، آرام اور افزائش نسل کے قدرتی مقامات ختم کر دیے ہیں۔