صاحبزادہ زبیر کاپاک افغان عارضی جنگ بندی کاخیر مقدم
اقدام خطے میں امن کی جانب مثبت پیشرفت، برادر ملکوں میں امن ناگزیر، گفتگو
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)جمعیت علما پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادر اور ہمسایہ اسلامی ممالک کو مستقل امن، استحکام اور ترقی کے حصول کیلئے باہمی مذاکرات اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کو فروغ دینا چاہیے ،کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مضبوط تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے ناگزیر ہیں۔ دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے ، سرحدی مسائل کے حل اور باہمی اعتماد کے فروغ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ عالم اسلام اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے ، جہاں مختلف عالمی طاقتیں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی جانب سے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد مسلم ممالک کو کمزور کرنا ہے ۔انہوں نے مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت تاحال جاری ہے ، جس کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے ۔عالمی برادری ان مظالم کا نوٹس لے اور فوری جنگ بندی کو یقینی بنائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی دراصل امت مسلمہ کے وسائل پر قبضہ کرنے کی ایک سازش ہے ، جسے بروقت حکمت اور اتحاد کے ذریعے ناکام بنانا ضروری ہے۔