انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست پرنوٹس

انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست پرنوٹس

سندھ ہائی کورٹ نے درخواست پر فریقین سے چار ہفتوں میں جواب طلب کرلیاآرٹس کونسل اراکین کی ذاتی تفصیلات طلب کرنا حق رازداری کیخلاف،درخواست

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے آرٹس کونسل کو معلومات فراہم کرنے سے متعلق سندھ انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔عدالت میں سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سندھ انفارمیشن کمیشن نے آرٹس کونسل کو پبلک باڈی قرار دے کر معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا، حالانکہ ادارے کو مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو حکومتی کنٹرول کے بغیر اپنی سرگرمیاں انجام دیتا ہے ، جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے ملنے والی گرانٹس ادارے کی کل آمدن کا محدود حصہ ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے تحت صرف وہ نجی ادارے پبلک باڈی قرار دیے جا سکتے ہیں جو مکمل طور پر حکومتی فنڈنگ پر انحصار کرتے ہوں۔ درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ آرٹس کونسل سے اراکین کی ذاتی تفصیلات اور دیگر حساس نوعیت کی معلومات طلب کی گئی ہیں، جو شہریوں کے حقِ رازداری کے خلاف ہے ۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سندھ انفارمیشن کمیشن کے احکامات کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے اور متعلقہ حکام کو آرٹس کونسل کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے روکا جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں