واجبات کیس،کے پی ٹی حکام کو کیس کے جائزے کاحکم
متعلقہ ادارہ تین ماہ کے اندر تفصیلی اور وجوہات پر مبنی فیصلہ کرے ،ہائیکورٹاصولی طور پرطویل اور مسلسل سروس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ریمارکس
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ریٹائرڈ افسر کی پنشن اور دیگر واجبات سے متعلق درخواست نمٹاتے ہوئے متعلقہ حکام کو کیس کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ متعلقہ ادارہ درخواست گزار کی مکمل سروس ریکارڈ، سابق عدالتی احکامات اور متعلقہ قوانین کی روشنی میں معاملے کی جانچ کرے اور تین ماہ کے اندر تفصیلی اور وجوہات پر مبنی فیصلہ کرے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ اگر درخواست گزار مالی فوائد کا حقدار ہو تو اس کی ادائیگی یقینی بنائی جائے ۔ دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے پاک بحریہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد 1996 میں کے پی ٹی میں خدمات انجام دیں اور طویل عرصہ ملازمت کے بعد عدالت کے حکم پر اس کی سروس کو ریگولرائز کیا گیا۔
لہٰذا اسے مکمل سروس مدت کی بنیاد پر پنشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات دیے جائیں۔ دوسری جانب کے پی ٹی کے وکیل نے موقف دیا کہ درخواست گزار پہلے ہی پاک بحریہ سے پنشن وصول کر رہا ہے ، اس لیے اس کی مکمل سروس کو پنشن کے لیے شمار نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اصولی طور پر طویل اور مسلسل سروس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم پنشن اور دیگر مراعات کا انحصار متعلقہ قوانین اور قواعد پر ہوتا ہے ۔ معاملہ قانونی تشریح اور سروس قواعد کے اطلاق سے متعلق ہے ، جس کا فیصلہ متعلقہ مجاز اتھارٹی کو کرنا چاہیے ۔