تیز ہوائیں ، اشتہاری بورڈز سے جانی نقصان کا خدشہ

تیز ہوائیں ، اشتہاری بورڈز  سے جانی نقصان کا خدشہ

شارع فیصل،کورنگی روڈ،شاہراہ پاکستان،راشد منہاس روڈ،شہید ملت روڈ،ایئرپورٹ اور دیگر کمرشل شاہراہوں پر بلند عمارتوں پر بورڈنصب محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے باوجودانتظامیہ کی جانب سے بورڈزکوہٹوانے کے حوالے سے مکمل خاموشی ،عوام کی جان ومال کو خطرات لاحق

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں تیز ہواؤں کی پیش گوئی کے باوجود غیر قانونی اورخطرناک بل بورڈز نہیں ہٹائے جاسکے ۔ تیزہواؤں کے سبب یہ بورڈز انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق تیز ہواؤں کی پیش گوئی کے باوجود غیرقانونی اورخطرناک دیوہیکل اشتہاری بورڈز نہیں ہٹائے جاسکے ۔ محکمہ موسمیات نے صوبے بھرمیں تیز ہوائیں چلنے کی پیشگوئی کی ہے ، تیز ہواؤں کے سبب یہ بل بورڈانسانی جانوں کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے بورڈزکوہٹوانے کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کرلی گئی،یاد رہے کہ تمام خطرناک بورڈز کو سپریم کورٹ نے بھی ہٹانے کا حکم دے رکھا۔واضح ہدایت کے باوجود شہر بھر میں شاہراہوں کی عمارتوں پر نصب دیوہیکل بل بورڈ نہیں ہٹائے جا سکے۔

بارش کے موقع پر دیوہیکل بل بورڈز انسانی زندگیوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ۔اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بل بورڈمافیا نے انسانی جانوں کو لاحق خطرے کونظر انداز کر دیا ہے اور شہر کی کسی بھی شاہراہ اور اس کے اطراف کی بلند عمارتوں سے تاحال بل بورڈز نہیں اتارے گئے ہیں ۔ ملنے والی اطلاعات کے مطابق شارع فیصل، کورنگی روڈ،شاہراہ پاکستان، راشد منہاس روڈ،شہید ملت روڈ، ایئرپورٹ، شاہراہ عراق اور دیگر کمرشل شاہراہوںپر بلند عمارتوں پر دیوہیکل بل بورڈنصب ہیں جو کراچی میں ممکنہ طوفان کے دوران کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ماتحت انتظامیہ کی جانب سے بھی ان کی ہدایت پر تاحال کوئی حکمت عملی نہیں بنائی گئی ہے ۔ایک جانب محکمہ موسمیات ممکنہ طوفانی ہواؤں سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے ہدایات جاری کررہا ہے۔

تو دوسری جانب عوام کی جان ومال کو تحفظ دینے کیلئے کسی قسم کے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے متعدد مقامات پر سڑکیں کھدی ہوئی ہیں جوکہ ممکنہ طوفان اور شدید بارشوں کے نتیجے میں انسانی جانوں کے لیے ایک بڑا رسک ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بارشوں کی پیشگوئی کے باوجود سڑکوں پر موجود گڑھے نہیں بھرے گئے جو حادثات کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ نالوں کی صفائی بھی مکمل نہیں کی جاسکی جس سے نالے اوور فلو ہوکر شہر کو ڈبونے کی وجہ بن سکتے ہیں۔علاوہ ازیں پانچ سو سے زائد چھوٹے بڑے برساتی نالوں کو صاف اور سیوریج کے بوسیدہ نظام کو بہتر نہیں کیا جاسکا ۔ شہر میں زیادہ برسات کی صورت میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ سڑکوں سے نالوں تک کچرے کے ڈھیر لگنے کے باعث شہری ممکنہ نکاسی آب کے مسائل کے پیش نظر تشویش کا شکار نظر آتے ہیں ۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں