جیکب آباد:محکمہ تعلیم کی بدنظمی سے اساتذہ وعملہ پریشان

جیکب آباد:محکمہ تعلیم کی بدنظمی سے اساتذہ وعملہ پریشان

تقرر،بائیو میٹرک، تنخواہ کا اجرا الگ اسکولوں سے کیا جانے لگا، ریکارڈ بھی اپڈیٹ نہیںمتعدد اسکولوں میں عملے کی اصل تعیناتی اور سرکاری دستاویزات میں واضح تضاد، ذرائع

جیکب آباد (نمائندہ دنیا)جیکب آباد میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی تعیناتی ایک اسکول میں جبکہ بائیو میٹرک اور تنخواہوں کا اجرا دوسرے اسکول سے کیا جا رہا ہے ۔ اس غیر منظم اور غیر شفاف طریقہ کار کے باعث نہ صرف سرکاری ریکارڈ بری طرح متاثر ہوا ہے بلکہ ملازمین کو بھی شدید ذہنی اذیت اذیت کا سامنا ہے ۔ذرائع کے مطابق متعدد اسکولوں میں عملے کی اصل تعیناتی اور سرکاری دستاویزات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے ۔ کئی ملازمین برسوں سے ایک ہی جگہ خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم ان کی تنخواہیں کسی اور ادارے کے کھاتے سے جاری ہو رہی ہیں۔ حیران کن طور پر کئی سال گزر جانے کے باوجود ریکارڈ کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا، جس کے باعث انتظامی امور پیچیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے ان کی پیشہ ورانہ زندگی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

ترقی، تبادلے اور دیگر سروس معاملات بھی التوا کا شکار ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بدانتظامی سرکاری وسائل کے ضیاع کا باعث ہے ۔ اس سلسلے میں رابطے پر چیف مانیٹرنگ افسر غلام محمد سومرو نے بتایا کہ ہمارا کام صرف بائیو میٹر ک حاضری لینا ہے ، ریکارڈ کی درستی سی آر ایم ایس سے ہو گی، ڈی او سیکنڈری محمد اسماعیل برڑو کا کہنا تھا کہ تدریسی و غیر تدریسی عملہ خود ایسا کرتا ہے حال میں نئے اساتذہ کو تقرر نامے جاری کئے ہیں جو ڈائریکٹر آفس سے موڈیفائی کرواکر آئے ہیں، اسی وجہ سے بائیو میٹرک میں بھی غیر حاضر ہوتے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں