چار ملکی اجلاس خوش آئند، ایران کوبلانا چاہئے تھا، تنظیم اسلامی
مسلم ممالک کے اتحاد کا پیغام جاتا، اسرائیل ابلیسی منصوبے پرعمل چاہتا، شجاع الدیننیتن یاہو کو گریٹر اسرائیل کے منصوبے پرعمل ترک کرنے پر مجبور کیا جائے ، گفتگو
حیدر آباد (بیورو رپورٹ)چار مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اسلام آباد میں اجلاس خوش آئند ہے لیکن ایران کو بھی دعوت دی جاتی تو دنیا کو مسلم ممالک کے اتحاد کا پیغام جاتا۔ اسرائیل اور اس کے صیہونی معاونین پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کا میدان بنا کر گریٹر اسرائیل کے ابلیسی منصوبے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے اسلام آباد میں مشرقِ وسطی خصوصاً غزہ اور ایران پر اسرائیلی و امریکی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوفناک صورتِ حال پر سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے کے مصداق ہونے کے باوجود اِس اجلاس میں خطے کی صورتحال اور امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور صحیح طور پر کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا گیا۔ لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ جب تک امریکہ اور خصوصاً اسرائیل کو اِس بات پر مجبور نہیں کر دیا جاتا کہ وہ گریٹر اسرائیل کے قیام کے مذموم منصوبے ، جسے نیتن یاہو اپنا روحانی مشن قرار دیتا ہے ، کو مکمل طور پر ترک نہ کر دے اس وقت تک زبانی جمع خرچ سے کوئی تبدیلی آنے والی نہیں۔