ماہ اپریل :فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں 42 شہری مارے گئے
مجموعی طور پر 3,192 موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری کی گئیں،1,624 شہری موبائل فونز سے محروم ہوگئے ،سی پی ایل سی چھینی گئی موٹرسائیکلوں کی برآمدی کم ہونے کا انکشاف، اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آ رہی،شہری حلقے
کراچی(این این آئی) شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم کی صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے ، جہاں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کی جان و مال کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے ۔ سی پی ایل سی کی اپریل 2026 کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق شہر میں نہ صرف اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مزاحمت پر قتل کے واقعات بھی تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران مزاحمت پرفائرنگ اور پرتشدد واقعات میں 42 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ یہ واقعات شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آئے جنہوں نے شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں مجموعی طور پر 3,192 موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری کی گئیں، جن میں 469 موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں جبکہ 2,723 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں۔ اسی عرصے میں 133 گاڑیاں بھی چوری یا چھینی جانے کی وارداتوں کا شکار ہوئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپریل کے دوران 1,624 شہریوں سے موبائل فون چھینے گئے ، جبکہ اغوا برائے تاوان کا ایک اور بھتہ خوری کے 9 کیسز بھی رپورٹ ہوئے ۔ مجموعی طور پر یومیہ بنیادوں پر درجنوں وارداتیں شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آ رہی ہیں۔دوسری جانب اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل(اے وی ایل سی)کی رپورٹ میں بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی میں روزانہ بڑی تعداد میں موٹر سائیکلیں چھینی جا رہی ہیں جبکہ برآمدگی کی شرح انتہائی کم ہے ، جس سے شہریوں کے مالی نقصان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔شہریوں اور ماہرین کے مطابق جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح نے پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہری حلقوں نے کہا کہ مختلف دعوؤں کے باوجود اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آ رہی۔کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم نے مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال کو متاثر کیا ہے ، جس کے باعث شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہوئے انہوں نے حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیاہے ۔