سجاول میں 60سے زائد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ
فرنیچر وبنیادی سہولتیں ناپید، بچے فرش پربیٹھ کرتعلیم حاصل کرنے پرمجبورکئی اسکولوں کی عمارتوں کا مرمتی کام بھی ادھورا، اہل علاقہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ
دڑو (رپورٹ:امداد میمن)ضلع سجاول کے علاقوں دڑو سمیت نواح میں 60 سے زائد سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں، جہاں فرنیچر سمیت تمام بنیادی سہولیات کا فقدان ہے ، شدید گرمی میں کئی اسکولوں کے بچے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دڑو اور اس کے گرد ونواح کی مختلف یونین کونسلوں میں 60 سے زائد سرکاری پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہوگئی ہیں، کئی عمارتوں کی مرمت کا کام ابھی تک نامکمل ہے ، دڑو کی نواحی یونین کونسلز حسین پور، یو سی خانپور، یوسی بنوں، یوسی بچل، یوسی لائق پور، یوسی کنڈور، یوسی مراد پور، یوسی اکبر شاہ، یوسی جھوک شریف سمیت ٹاؤن کمیٹی دڑو میں اسکولوں کی عمارتوں کی گزشتہ کئی سال سے مرمت نہیں کی گئی، پرائمری اسکول رتو لاشاری، پرائمری اسکول عمر منچھری، پرائمری اسکول علی میر شاہ، پرائمری اسکول سومار میر بحر، پرائمری اسکول رمضان میمن، پرائمری اسکول پیر محمد بھنبھرو، مڈل اسکول کاندھڑا، پرائمری اسکول دودو جاکھرو سمیت دیگر اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اسکولوں میں پڑھنے والے بچے شدید گرمی میں فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں، اہل علاقہ اور مختلف سیاسی وسماجی رہنماؤں نے محکمہ تعلیم سندھ، ڈی سی سجاول اور ضلع کے منتخب عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام خستہ حال سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو تعمیر کرکے بچوں کے تعلیمی مستقبل کو بچایا جائے۔