سانحہ بلدیہ ، جماعت اسلامی کا دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ

سانحہ بلدیہ ، جماعت اسلامی کا دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ

سپریم کورٹ کے فیصلے نے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا، سیف الدین ایڈووکیٹبھتہ مافیا کے ملوث ہونے اور 25کروڑ کا معاملہ کہاں گیا؟ ورثاء کے ہمراہ پریس کانفرنس

کراچی(اسٹاف رپورٹر)قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے سانحہ بلدیہ کے ورثاء و اہل خانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ٹیکنیکل بنیادوں پر ملزمان کو بری توکر دیا لیکن زندہ جل کر مرنے والوں کے مظلوم اہل خانہ کو انصاف نہ مل سکا اور نہ کوئی ایسی سمت متعین کی جس سے مظلوموں کو انصاف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے میں بہت سے پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا، اس طرح کے کیسوں کے تفصیلی فیصلے فوری جاری ہونے چاہیے ، ورثاء کی جانب سے فریق بننے کی درخواست کو مسترد کرنے کی وجوہات قابل قبول نہیں، اسی طرح 25 کروڑ روپے بھتے کا معاملہ بھی کہاں گیا معلوم نہیں؟ سپریم کورٹ کا عدالتی فیصلہ پورے عدالتی نظام اور عدالتی کارروائی پر سوالیہ نشان ہے ، یہ کیسا عدالتی نظام ہے کہ جن الزامات، ثبوتوں،جے آئی ٹی رپورٹوں اور اعترافی بیانات کی بنیاد پر پہلے نچلی عدالت اور پھر سندھ ہائی کورٹ نے ملزمان کو سزائے موت دی لیکن اعلیٰ عدلیہ نے ملزمان کو بری کر دیا، اگر جے آئی ٹی رپورٹس غلط تھیں تو ان رپورٹوں کو بنانے والوں کو سزا ملنی چاہیے ، ہمارا مطالبہ ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کی دوبارہ تحقیقات کرائی جائے ، 25کروڑ روپے بھتہ لینے کے معاملے کی بھی تحقیقات کروائی جائے کہ اس میں کون کون ملوث تھے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں