بارشوں کے بعد تھرمیں ہریالی، نقل مکانی کرنیوالوں کی واپسی
میرپور خاص، بدین، سانگھڑ، نوابشاہ سے مال مویشیوں کے ہمراہ پیدل سفر جاریخشک سالی اور چارہ سوکھنے کے بعد بیراجی علاقوں کی جانب نقل مکانی کی تھی
نوکوٹ (نمائندہ دنیا)ضلع تھر پارکر میں ہر سال قحط سالی کے باعث غذائی قلت اور چارہ سوکھ جانے کے بعد تھرکے ہزاروں خاندان نقل مکانی کرتے ہوئے سندھ کے بیراجی علاقوں میں منتقل ہوجاتے ہیں، تھری باشندوں نے 70فیصد جانور جن میں گائے ، بھیڑ، بکریاں اور اونٹ شامل ہیں، اپنے خاندان کے ہمراہ منتقل کردیا تھا اور اب صدیوں کی روایت کے مطابق حالیہ دنوں صحرائے تھر کے سرحدی علاقوں ڈیپلو، ننگرپارکر ،ویراواہ، کاسبو، ڈانوڈھادل اور چھاچھرو کے چند علاقوں میں بارشوں کے بعد بیراجی علاقوں نوابشاہ، شہدادپور، سانگھڑ، میرپور خاص اور بدین سے سینکڑوں خاندانوں نے پرائیویٹ اور مسافر ٹرانسپورٹ کے ذریعے واپسی کا آغاز کردیا، مٹھی مرکزی بس اسٹینڈ پر خاندانوں کی بڑی تعداد میں آمد ہورہی ہے۔
نوکوٹ، بدین، عمرکوٹ، کنری کی شاہراہوں سے تھری باشندے اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ دن رات پیدل سفر کرتے ہوئے جانوروں کو بھی علاقوں میں منتقل کررہے ہیں۔ دوسری جانب تھر کے مقامی افراد اور سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تھر کے سرحدی علاقوں میں چند مقامات پر کہیں تیزاور ہلکی بارشیں ہوئی ہیں جبکہ پورے صحرائے تھر میں قبل از وقت توقع سے زائد بارشیں ہونے کا امکان ہے جس سے تھر کی رونقیں بحال ہونگیں اور فصلیں اور جانوروں کے لیے گھاس اور چارہ اگے گا ۔ قحط سالی کے بعد تھری باشندے اپنے خاندان اور جانوروں کے ساتھ بیراجی علاقوں میں اس لئے ہجرت کرتے ہیں کہ وہاں پر دھان کی بوائی اور گندم کی کٹائی کرکے اپنا پورے سال کا گزر بسر کرسکیں۔