مختار کار آفس میں مبینہ کرپشن، لاڑکانہ بار کے تحت مظاہرہ
فائلیں آگے بڑھانے سے سیل سرٹیفکیٹ تک لاکھوں روپے بٹورے جا رہےرقم طے ہونے پر فائل آگے بڑھائی جاتی ہے ، ورنہ چکر لگوائے جاتے ہیں، رہنما
لاڑکانہ (بیورو رپورٹ)مختارکار آفس کے باہر مبینہ رشوت خوری کے خلاف ڈسٹرکٹ بار کے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ عامر سوہو، شاہزیب ڈہوٹ، وقار جتوئی، عبدالستار اور دیگر کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا، احتجاج کے دوران وکلا اور دیگر نے الزام عائد کیا کہ مختارکار لاڑکانہ عبدالخالق چانڈیو کے دور میں مبینہ طور پر رشوت کا بازار گرم ہے اور سائلین سے سرکاری فیس کے علاوہ مختلف ریونیو معاملات میں بھاری رقوم طلب کیے جانے کی شکایات ہیں۔ مظاہرین کے مطابق ہر سیل سرٹیفکیٹ کے لیے مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے سے زائد رقم طلب کی جاتی ہے ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ عام شہری اپنے جائز کام کے لیے مختارکار آفس کا رخ کرتے ہیں لیکن انہیں مبینہ طور پر ایک دفتر سے دوسرے دفتر اور ایک میز سے دوسری میز کے چکر لگوائے جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق مبینہ معاملہ صرف سیل سرٹیفکیٹ تک محدود نہیں بلکہ ریونیو ریکارڈ سے متعلق متعدد معاملات میں بھی اضافی رقم طلب کیے جانے کی شکایات ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ زمینوں کی فرد، انتقال، کھاتہ، وراثتی معاملات، ریکارڈ کی درستی اور دیگر ریونیو امور کی فائلوں میں مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ بعض معاملات میں مبینہ طور پر رقم طے ہونے کے بعد فائل کو تیزی سے آگے بڑھایا جاتا ہے، جبکہ رقم ادا نہ کرنے والے سائلین کی فائلیں مبینہ طور پر غیرضروری تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments