زکریا یونیورسٹی مالی بحران کا شکار، شعبوں سے کروڑوں ادھار

زکریا یونیورسٹی مالی بحران کا شکار، شعبوں سے کروڑوں ادھار

زکریا یونیورسٹی مالی بحران کا شکار، شعبوں سے کروڑوں ادھارتنخواہوں، پنشن اور منصوبوں کی ادائیگیوں کا دباؤ، داخلوں کا ہدف پورا نہ ہوا

ملتان (خصوصی رپورٹر)بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں مالی بحران سنگین ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کے لیے اپنے مختلف تدریسی شعبوں کے ایوننگ پروگرامز کے اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے عارضی طور پر ادھار لینا پڑے ، جبکہ بعض اساتذہ کے چیک باؤنس ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خزانہ دار آفس کی جانب سے مختلف شعبوں سے مجموعی طور پر 7 کروڑ روپے سے زائد رقم حاصل کی گئی، جو بنیادی طور پر تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی پر خرچ ہوئی۔ شعبہ فوڈ سائنسز سے ایک کروڑ روپے  سے زائد، سائیکالوجی سے تقریباً 40 لاکھ، پریکٹس فارمیسی سے 70 لاکھ، انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز سے 40 لاکھ اور شعبہ سیاسیات سے تقریباً 30 لاکھ روپے لیے گئے ، جبکہ دیگر شعبوں سے بھی رقوم حاصل کی گئیں۔ذرائع کے مطابق مختلف ترقیاتی اور جاری منصوبوں کی ادائیگیاں بھی زیر التوا ہیں۔ سولر پراجیکٹ کے تقریباً 3 کروڑ روپے ، ایچ ای سی انٹرنیٹ اور دیگر منصوبوں کے واجبات سمیت مجموعی زیر التوا ادائیگیاں تقریباً 25 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی نے رواں سال 7 ہزار نئے داخلوں کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم اب تک تقریباً 3 ہزار 200 امیدوار فیس جمع کراسکے ہیں۔ داخلوں کا ہدف پورا نہ ہونے سے اپنی آمدن میں کمی کا خدشہ ہے ۔ذرائع کے مطابق ایچ ای سی کی سالانہ گرانٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں پر خرچ ہوچکا ہے ، جبکہ اضافی مالی وسائل کی واضح توقع بھی نہیں۔ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں تنخواہوں، پنشن اور دیگر اخراجات کی بروقت ادائیگی مزید مشکل ہوسکتی ہے ۔

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...