سویرا لغاری کیس:پولیس پر حملے کے الزام میں مزید 6 گرفتار
گرفتاری کے خلاف خواتین کا احتجاج،ڈسٹرکٹ بار کی پولیس کارروائیوں کی مذمت
میرپورخاص (بیورورپورٹ) کریم ٹاؤن کے علاقے میں سویرا لغاری قتل واقعہ کے دوران پولیس پر حملے کے الزام میں درج مقدمے میں پولیس نے مزید کارروائیاں کرتے ہوئے میر کالونی اور کریم ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 6 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں ڈاکٹر نذیر لغاری، ان کے بیٹے ڈاکٹر یاسر لغاری، پرویز لغاری، توصیف لغاری، توقیر عرف بابر لغاری اور جمشید لغاری شامل ہیں۔ پولیس کی جانب سے گرفتاریوں کے بعد لغاری برادری کی خواتین پریس کلب پہنچ گئیں اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کرنے والی خواتین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سویرا لغاری خود ان کی برادری کی بیٹی تھی جس کے قتل کے معاملے میں انصاف کے لیے جدوجہد کی جا رہی ہے ، تاہم پولیس نے بے گناہ افراد کے خلاف پولیس پر حملے اور سرکاری ڈیوٹی میں مداخلت جیسے مقدمات درج کرکے گرفتاریاں شروع کردی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سویرا لغاری قتل کیس کی شفاف تحقیقات کراکر اصل ملزموں کو گرفتار اور بے گناہوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میرپورخاص کا اجلاس صدر ایڈووکیٹ قلندر بخش لغاری کی صدارت میں ہوا، جس میں پولیس کی حالیہ کارروائیوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سویرا لغاری قتل کیس میں ورثا کو انصاف سینے کے بجائے پولیس کی جانب سے فریادی کے رشتہ داروں، کو مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے ۔ ڈسٹرکٹ بار نے حکومت، آئی جی اور ڈی آئی جی میرپورخاص سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments