نوجوانوں کو سیرت پاک سے جوڑنے کی ضرورت ،کانفرنس

نوجوانوں  کو  سیرت  پاک  سے  جوڑنے  کی  ضرورت ،کانفرنس

سیرت طیبہ کو جامعات اور تعلیمی اداروں میں ایک اہم موضوع کے طور پر اپنایا اور نوجوانوں کی تعمیر و ترقی کی جائےگورنرہاؤس میں منعقدہ کانفرنس سے مفتی تقی عثمانی،علامہ شہنشاہ حسین نقوی،پیر سید اظہر شاہ ہمدانی ودیگر کا خطاب

کراچی(اسٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) گورنر ہاؤس کراچی میں سیرت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں مذہبی اسکالرز اور علما کرام نے شرکت کی۔ سیرت کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی، علامہ شہنشاہ نقوی سمیت دیگر مذہبی شخصیات موجود تھیں۔مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ سیرت طیبہ کی رہنمائی کے دو پہلو ہیں، پہلا یہ کہ سیرت طیبہ کو عملی طور پر پڑھا جائے اور پڑھایا جائے ۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جامعات میں چاہے جو بھی مضامین پڑھائے جائیں، مگر سیرت طیبہ کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سیرت طیبہ کو جامعات اور تعلیمی اداروں میں ایک اہم موضوع کے طور پر اپنایا جائے اور نوجوانوں کی تعمیر و ترقی کی جائے ۔ جب سیرت طیبہ کا مطالعہ کرایا جائے تو محض فکری طور پر نہ ہو بلکہ ان کی سنت پر بھی عمل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں اختلاف کی بنیاد پر گالیاں دی جاتی ہیں۔ ہر گھرانے میں کچھ وقت ایسا ہونا چاہیے جس میں سب مل کر بیٹھیں اور سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ نوجوانوں کو برداشت کا پیغام اور ایک دوسرے کو قبول کرنا ہے ۔

آیت اللہ خامنائی کی شہادت کے بعد سب ایک ہوگئے ہیں، 90 فیصد مخالفت غلط فہمی کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ قاری عثمان نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہر طریقے سے سیرت طیبہ کو اپنایا جائے ۔ ہمیں سیرت پر چلنا ہوگا، تب ہی ہم باطل کا مقابلہ کرسکیں گے ۔ کفر عالم اسلام پر حملہ آور ہے ، آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے جس کی اصل وجہ سیرت پاک سے دوری ہے ۔پیر سید اظہر شاہ ہمدانی نے کہا کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے ، ان نوجوانوں کو سیرت پاک سے جوڑنے کی ضرورت ہے ۔ آج کا نوجوان اور والدین مال کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کیلئے پیغام ہے کہ وہ سیرت کے ساتھ جڑ جائیں۔گورنر سندھ نہال ہاشمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو آگے بڑھانا ہوگا اور ہمیں اپنے اخلاق بہتر کرنے ہوں گے ۔ اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ گھر، اسکول اور یونیورسٹی ہر جگہ ہمیں خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ پاکستان کو بہتر نظام کیسے ملے گا اور اس پر عمل کون کرے گا، یہ سوال ہمیں خود سے کرنا ہوگا۔ جب کردار اچھا ہوگا تو یہ سب ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم قانون کا احترام کریں گے تو ریاست مضبوط ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...