ٹائونز کوروڈ کٹنگ کے اربوں روپے ملے،حساب غائب
کراچی کے تمام ٹاؤنز کو سوئی گیس اور دیگر اداروں سے کتنے ارب ملے،کہاں خرچ ہوئے ؟،پی اے سی اجلاس،محکمہ بلدیات و ٹاؤن افسران رقم کی تفصیلات فراہم نہ کرسکےاگرٹاؤنز لاکھوں کے گٹرڈھکن خرید کرلگا رہے توبچوں کے گرنے کے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں،چیئرمین،ٹاؤنز سے ڈھکنوں سے متعلق بھی تفصیلات طلب کرلیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر)پی اے سی نے کراچی کے تمام ٹاؤنز سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے محکمہ بلدیات کو تمام ٹاؤنز کے ترقیاتی کاموں کی مانیٹرنگ کا مکینزم بنانے کی ہدایت کی ۔جمعرات کو پی اے سی اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔ اجلاس میں محکمہ بلدیات کے افسران و مختلف ٹاؤنز کے ٹاؤن میونسپل کمشنرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں ٹاؤن میونسپل کارپوریشن جناح کی آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے جناح ٹاؤنکے افسران سے استفسار کیا کے جناح ٹاؤن میں کتنی این آئی ٹیز کرکے کیا ترقیاتی کام کرایا گیا ہے ؟ ٹاؤن میونسپل کمشنر جناح ٹاؤن نے بتایا کے روڈ کٹنگ کی مد میں جناح ٹاؤن کو 80 کروڑ روپے ملے ہیں جن میں سے روڈ اور دیگر ترقیاتی کاموں کی 30 کروڑ روپے کی این آئی ٹی کرائی گئی ہے ۔ نثار کھوڑو نے کہا کے 30 کروڑ روپے کی این آئی ٹی میں ٹاؤن میں کونسی ترقیاتی اسکیمیں دی گئی ہیں وہ لسٹ فراہم کریں۔انہوں نے ہدایت کی کے کراچی کے تمام ٹاؤنز کو سوئی گیس اور دیگر اداروں سے روڈ کٹنگ کی مد میں کتنے ارب روپے ملے ہیں اور وہ اربوں روپے ٹاؤنز میں کہاں کہاں خرچ ہوئے ہیں اس سے متعلق ٹاؤن وائیز آگاہ کریں۔
اس موقع پر محکمہ بلدیات کے افسران نے پی اے سی کو بتایا کے متعدد ٹاؤنز کو روڈ کٹنگ کی مد میں سوئی گیس سمیت دیگر اداروں سے مختلف ادوار میں مختلف رقوم موصول ہوتی ہیں تاہم محکمہ بلدیات و ٹاؤن افسران پی اے سی کو روڈ کٹنگ کی مد میں ٹاؤنز کو موصول ہونے والی رقم اور رقم کے استعمال کے متعلق تفصیلات فراہم نہ کرسکے ۔اس موقع پر پی اے سی نے سوئی سدرن اور دیگر اداروں سے تمام ٹاؤنز کو روڈ کٹنگ کی مد میں موصول ہونے والے اربوں روپے اور ان اربوں روپے کے استعمال کے متعلق تمام ٹاؤنز سے تفصیلات طلب کرلئے ہیں۔چیئرمین پی اے سی نے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے کس ٹاؤن کو روڈ کٹنگ کی مد میں کتنے ارب روپے ملے ہیں اور وہ رقم کہاں کس مد میں خرچ کی گئی اس متعلق ٹاؤن وائز تفصیلات فراہم کی جائیں۔اجلاس میں جناح ٹاؤن انتظامیہ کا 4,4 لاکھ روپے کی 4 کوٹیشنز کے ذریعے فی گٹر کا ڈھکن 5 ہزار روپے میں خرید نے سمیت 19 لاکھ روپے کے گٹر کے ڈھکن خرید نے کا انکشاف سامنے آیا۔ ایم سی جناح ٹاؤن نے پی اے سی کو بتایا کے جناح ٹاؤن میں کوٹیشنز پر 19 لاکھ روپے کے گٹر کے ڈھکن خرید کر لگائے گئے ہیں اور فی ڈھکن 5 ہزار روپے میں خریدا گیا ۔چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کے 19لاکھ روپے میں کتنے گٹر کے ڈھکن خرید ے گئے اور ٹاؤن میں کہاں کہاں لگائے گئے ؟ جناح ٹاؤن کے ایم سی نے بتایا کے جناح ٹاؤن کی یوسی 5,7 اور یوسی 8 میں گٹر کے ڈھکن لگائے گئے ہیں۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے اگر کراچی کے ٹاؤنز لاکھوں روپے کے گٹر کے ڈھکن خرید کر گٹروں پر لگا رہے ہیں تو پھر گٹروں پر ڈھکن نہ ہونے اور گٹروں میں بچوں کے گرنے کے واقعات کیوں پیش آ رہے ہیں۔؟ پی اے سی نے ٹاؤنز سے گٹروں کے ڈھکنوں کے متعلق بھی تفصیلات طلب کرلی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments