بلاول کی اسلام کوٹ آمد، تھرکول متاثرین کا لانگ مارچ شروع
گاؤں گوڑانو سے آغاز، مارچ کے شرکا آج اسلام کوٹ پہنچ کردھرنا دیں گےڈیموں کے زہریلے پانی سے زمینیں، کنویں تباہ، معاوضہ نہیں دیا گیا، رہنما
تھرپارکر (نامہ نگار)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے دورے کے بعد گاؤں گوڑانو، ڈکڑچھو ڈیم اور تھرکول منصوبوں سے متاثرہ افراد نے بنیادی حقوق، رائلٹی، روزگار، شفاف ری سیٹلمنٹ پالیسی، سی ایس آر فنڈ میں مبینہ کرپشن، زرعی زمینوں اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف گاؤں گوڑانو ڈیم سے اسلام کوٹ پریس کلب تک 35 کلومیٹر پیدل لانگ مارچ شروع کر دیا۔ بھیم راج، لچھمن، دامون، سلیم ڈہوٹ، دیدار بھیل، شیر لنچو اور دیگر کی قیادت میں مارچ مختلف دیہات سے ہوتا ہوا آج اسلام کوٹ پہنچے گا، جہاں پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ رہنماؤں بھیم راج اور دیگر نے کہا کہ گوڑانو اور ڈکڑچھو ڈیموں سے نکلنے والے زہریلے پانی سے متعدد دیہات، زرعی زمینیں اور پینے کے پانی کے کنویں متاثر ہو چکے ہیں۔
جبکہ کوئلے کی دھول، زہریلے دھویں اور ڈمپنگ کے باعث کَھبڑ، کَنڈی، روہیڑو اور لئی سمیت قیمتی درختوں اور قدرتی چراگاہوں کی تباہی جاری ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریلوے لائن اور ڈمپنگ یارڈز کے لیے مناسب نوٹس اور معاوضے کے بغیر ہزاروں ایکڑ زرعی زمین اور چراگاہوں پر قبضہ کیا گیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تھرکول کے نام پر تھر کے قدرتی وسائل اور ماحول کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ، جبکہ اربوں روپے کی رائلٹی کے باوجود تھر کو مطلوبہ حصہ اور بنیادی سہولیات نہیں مل سکیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رائلٹی کا 100 فیصد فنڈ تھر کی ترقی پر خرچ کیا جائے اور کمپنیوں کے کروڑوں روپے کے سی ایس آر فنڈز کے استعمال کے حوالے سے شفاف تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کی جائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments