پی ڈی ایم حکومت میں گندم 2400روپے من مہنگی
لاہور (عمران اکبر )پی ڈی ایم کی حکومت میں بنیادی ضرورت گندم کی قیمتیں بھی بے قابو رہیں ، 16ماہ میں گندم 2400روپے من مہنگی ہوئی ۔
تفصیلات کے مطابق 16 ماہ قبل 2300 روپے من والی گندم کا سرکاری ریٹ 3900 روپے کر دیا گیا ،مارکیٹ میں گندم سرکاری ریٹ پر آج تک کبھی بھی دستیاب نہ ہو سکی ،عدم توجہ اور محکمہ خوراک کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔پی ڈی ایم کی حکومت نے گندم کے سرکاری ریٹ میں 1600 روپے اضافہ کر ڈالا،اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت 5200 روپے کو چھو گئی۔15جون 2023 میں گندم ریٹ 48 سو روپے تک دیکھا گیا ۔اس وقت اوپن مارکیٹ میں گندم 4700 روپے من میں مل رہی ہے ، پی ڈی ایم دور میں گندم کی قیمت میں 2400 روپے کا بلند ترین اضافہ ہوا۔ذرائع کے مطابق حکومت کی پکڑ دھکڑ بھی بے سود رہی،گندم مافیا پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا،چھوٹے چھوٹے زمینداروں کے گوداموں پر چھاپے مارے جاتے رہے ،بااثر زمینداروں اور آڑھتیوں کے گوداموں کی جانب رخ ہی نہ کیا گیا،نتیجتاً سرکاری ریٹ پر گندم ملتی نہیں، دوسرا عوام مہنگی ترین خرید نے پر مجبور ہیں۔ ذخیرہ اندوزوں کی کمر توڑنے کی کوشش کی گئی نہ محکمہ خوراک کے پاس اس کا حل ہے ۔مہنگی گندم کے باعث اس سے جڑی دیگر اشیا کی قیمتیں بھی آسمان تک پہنچ چکیں،ناقص پالیسی کی بنا پر 45لاکھ میٹرک ٹن گندم کا ہدف مکمل نہ ہوا ۔سال 2023-24 کے لیے صرف 39 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی گئی۔چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ جس طرح کی مہنگائی چل رہی ہے ، گندم کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔