ایل ڈی اے :جعلی ویری فکیشن لیٹرز ، فیک سٹیمپس کاانکشاف
انکوائری کمیٹی کی ذمہ داریوں کا تعین اور اصلاحی اقدامات کی سفارشات
لاہور (شیخ زین العابدین)ایل ڈی اے میں جعلی ویری فکیشن لیٹرز اور فیک سٹیمپس کا سنگین معاملہ منظرِ عام پر آ چکا ہے ،پیڈا ایکٹ کے تحت فیکٹ فائنڈنگ انکوائری نے ریکارڈ کی بدترین غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے ،داخلی نظام کی کمزوریوں سے جعلی تصدیقات قابلِ استعمال بننے کا انکشاف ہوا ہے ،انکوائری کمیٹی نے ذمہ داریوں کا تعین اور اصلاحی اقدامات کی واضح سفارشات دے دی ہیں۔انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ غفور، ڈاک رنر قائد اعظم ٹاؤن، سب رجسٹرار آفس میں غیر رسمی رسائی رکھتا تھا اور نجی افراد کے لیے رجسٹرڈ دستاویزات کی ویری فکیشن میں سہولت کاری کرتا رہا۔ اسی طرح ریکارڈ کیپرز محمد محمود، عدنان امجد بٹ اور نعیم بھٹو پر ریکارڈ کی حفاظت میں سنگین غفلت ثابت ہوئی۔اسی بنیاد پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر عماد انور کھوکھر کو الزامات سے بری کرنے کی سفارش کی گئی، کیونکہ ان کا ویری فکیشن سیل سے کوئی تعلق نہیں رہا اور تمام متعلقہ ویری فکیشن ڈی ایف پی ایس کے ذریعے دوبارہ درست ثابت ہوئیں۔انکوائری میں سفارش کی گئی ہے کہ ریکارڈ کیپرز محمد محمود، عدنان امجد بٹ اور نعیم بھٹو کے خلاف سرزنش کی جائے ، مبشر علی کی ایک سال کے لیے انکریمنٹ روکی جائے جبکہ غفور ڈاک رنر کو محدود کردار کے باعث سرزنش دی جائے ۔ مزید یہ کہ تمام متنازع فائلیں ڈی ایف پی ایس میں آبجکشن کیٹیگری کے تحت مکمل کی جائیں۔