مرکزی شاہراہوں پر رش،ٹریفک جام معمول،شہری پریشان
کینال روڈ ، جیل روڈ ، مال روڈ، فیروزپورروڈ ، ملتان روڈ ، جی ٹی روڈ ، رائیونڈ روڈ ، ٹھوکرنیاز بیگ ، شاہدرہ ، کاہنہ راوی روڈ جیسے مقامات پر ٹریفک کی صورتحال بے قابودفاتر کے اوقات ہوں یا تعلیمی اداروں کی چھٹی، شہری گھنٹوں سڑکوں پر خوار ،ٹیپا کی توجہ میگا پراجیکٹس تک محدود،دو سال سے ٹریفک اکاؤنٹ سروے نہ کرنیکاانکشاف
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )شہر میں ٹریفک کا مسئلہ روز بروز سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔ شہر کی اہم مرکزی شاہراہوں کینال روڈ، جیل روڈ، مال روڈ اور فیروزپور روڈ پر ٹریفک جام معمول بن چکا ہے ۔ دفاتر کے اوقات ہوں یا تعلیمی اداروں کی چھٹی، شہری گھنٹوں سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔اسی طرح ملتان روڈ، جی ٹی روڈ اور رائیونڈ روڈ پر بڑھتا ہوا رش شہریوں کے لیے اذیت کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جہاں ٹھوکر نیاز بیگ، شاہدرہ، کاہنہ اور راوی روڈ جیسے مقامات پر صورتحال قابو سے باہر دکھائی دیتی ہے ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ لاہور میں گزشتہ دو سال سے باقاعدہ ٹریفک ا کاؤنٹ سروے ہی نہیں کیا گیا۔ شہر کی سڑکوں پر کتنی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور رکشے چل رہے ہیں، اس حوالے سے کوئی تازہ اور مستند ڈیٹا دستیاب نہیں۔ ایسے میں یہ طے کرنا بھی ممکن نہیں کہ کس سڑک پر انڈر پاس یا فلائی اوور کی ضرورت ہے اور کہاں سگنل یا انٹرسیکشن کی ری ڈیزائننگ درکار ہے ۔ذرائع کے مطابق لاہور میں ٹریفک انجینئرنگ کی منصوبہ بندی بنیادی ڈیٹا کے بغیر کی جا رہی ہے ، جس کے باعث مسائل کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتے جا رہے ہیں۔ انٹرسیکشنز پر ٹریفک دباؤ کی نئی نشاندہی کا عمل بھی رک چکا ہے ، جبکہ استعمال ہونے والا ڈیٹا تین سال پرانا ہے جو آج کے لاہور کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے ۔ٹریفک ماہرین کے مطابق یہ صورتحال محض رش کا نتیجہ نہیں بلکہ واضح بدانتظامی اور غفلت کی عکاس ہے ۔ ٹیپا کی توجہ میگا پراجیکٹس تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، جبکہ روزمرہ شہری ٹریفک مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ۔