رواں مالی سال متعدد سکیمیں منظوری کے باوجود تعطل کا شکار
بیشتر منصوبوں کیلئے یا تو رقم جاری نہ کی جا سکی یا پھر مختص فنڈز خرچ ہی نہ ہو سکے
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )رواں مالی سال میں ایل ڈی اے نے ذاتی وسائل سے فلیٹس اور عمارتوں کی مجموعی طور پر تیرہ سکیمیں منظور کیں، تاہم عملی پیش رفت صرف ایک منصوبے تک محدود رہی۔ دستاویزات کے مطابق متعدد سکیمیں منظوری کے باوجود تعطل کا شکار رہیں۔ بیشتر منصوبوں کیلئے یا تو رقم جاری نہ کی جا سکی یا پھر مختص فنڈز خرچ ہی نہ ہو سکے ۔ نتیجتاً ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوئی اور کئی اہم اقدامات کاغذوں تک محدود رہے ۔ادارے نے ذاتی وسائل سے جوہر ٹاؤن میں اپنے دفتر کی توسیع کا کام ضرور مکمل کیا، تاہم دیگر منصوبوں میں مالی نظم و نسق پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایل ڈی اے ایونیو ون میں نئی آفس بلڈنگ کیلئے مختص پچاس ملین روپے مکمل طور پر استعمال نہ ہو سکے ۔اسی طرح فنانس اینڈ ٹریڈ سینٹر میں اپارٹمنٹس کی تعمیر کیلئے مختص تین سو پچاس ملین روپے بھی خرچ نہ کیے جا سکے ۔ ایل ڈی اے ملازمین کیلئے نئی رہائش گاہوں کی تعمیر کی مد میں رکھے گئے دو سو ملین روپے خزانے میں ہی بند رہے اور عملی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔