رواں سال ڈینگی کے کیسز میں اضافے کے خدشات
ڈینگی سرویلنس پر مامور عملے کو سی ایم کمیونٹی ورکرز میں تبدیل کر دیا گیا
لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے )صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب میں رواں سال ڈینگی کے کیسز میں اضافے کے خدشات بڑھنے لگے ہیں جبکہ ڈینگی سرویلنس کے لیے مختص عملے کی کمی کے باعث فیلڈ سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق ڈینگی سرویلنس پر مامور عملے کو سی ایم کمیونٹی ورکرز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کے بعد ڈینگی کے خلاف فیلڈ میں کام کرنے والی ٹیموں کی تعداد کم ہو گئی ہے ۔ اس وقت ڈینگی سرویلنس سے وابستہ بڑی تعداد میں سٹاف گھروں میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم میں مصروف ہے جس کے باعث ڈینگی سے بچاؤ کے لیے آگاہی اور چیکنگ کی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ڈینگی سیزن کا آغاز ہو چکا ہے تاہم فیلڈ ٹیمیں گھروں تک پہنچ کر لاروا چیکنگ اور آگاہی مہم مؤثر انداز میں نہیں کر پا رہیں۔ میڈیکل ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو اپریل اور مئی تک ڈینگی کے کیسز میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہو سکتا ہے ۔دوسری جانب سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر آصف نیازی کا کہنا ہے کہ تمام سینیٹری پیٹرولز ڈینگی سرویلنس کر رہے ہیں اور اس سے متعلق ڈیٹا ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کے مطابق مختلف علاقوں میں صفائی کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں تاکہ ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے ۔