پنجاب بھر کے بس اڈوں کی حالت زار،مسافر مشکلات کا شکار
جناح ٹرمینل ،سٹی ٹرمینل سمیت بڑے بس اڈوں میں مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے دعوے حقیقت کا روپ نہ دھار سکے فیملی ہالز میں نشئیوں کے ڈیرے ، داخلی ، خارجی راستوں کا نظام موجود نہیں ،واک تھرو گیٹس اور سکیورٹی کیمرے بھی غیر فعال
لاہور (شیخ زین العابدین)وزیراعلیٰ پنجاب کے احکامات کے باوجود بس اڈے مسائل کا گڑھ بن گئے ،سکیورٹی، صفائی اور بنیادی سہولیات کی صورتحال تشویشناک،اربوں روپے کی اپگریڈیشن سکیم منظوری کی منتظر،مسافر جدید سہولیات کے بجائے بدانتظامی کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کے سرکاری بس اڈوں کی حالت زار نے انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں، جہاں وزیراعلیٰ پنجاب کے واضح احکامات کے باوجود سکیورٹی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی نہ بنائی جا سکی۔ صوبے میں موجود بس اڈوں کی اپگریڈیشن کے لیے چار ارب چودہ کروڑ دس لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور یہ سکیم رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی شامل کی گئی، تاہم تاحال منظوری نہ ملنے کے باعث منصوبہ عملی پیش رفت سے محروم ہے ۔لاہور کے بڑے بس ٹرمینلز، جن میں جناح بس ٹرمینل اور سٹی بس ٹرمینل شامل ہیں، وہاں مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے دعوے حقیقت کا روپ نہ دھار سکے ۔صورتحال یہ ہے کہ فیملی ہالز میں نشہ آور افراد کے ڈیرے لگ چکے ہیں، جس کے باعث خواتین اور خاندانوں کو باہر کھڑے ہو کر انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ داخلی اور خارجی راستوں کا باقاعدہ نظام موجود نہیں جبکہ واک تھرو گیٹس اور سکیورٹی کیمرے بھی غیر فعال حالت میں ہیں۔مزید برآں پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر نہیں، واش رومز خستہ حالی کا شکار ہیں اور انکے استعمال پر بھی مسافروں سے فیس وصول کی جا رہی ہے ۔ ایئر کنڈیشنگ سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے جبکہ صفائی کے انتظامات بھی انتہائی ناقص دکھائی دیتے ہیں۔ خصوصی افراد کیلئے نہ تو ریمپ موجود ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا ہیلپ ڈیسک فعال نظر آتا ہے ، جس سے سہولیات کی فراہمی کے دعوے مزید مشکوک ہو جاتے ہیں۔