سکولوں میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، درسی کتب کا بحران برقرار

 سکولوں میں نئے تعلیمی سال کا آغاز، درسی کتب کا بحران برقرار

ہزاروں طلبہ کتابوں سے محروم،تعلیم متاثر ، مارکیٹ میں بھی نصابی کتب نایاب

لاہور(سجاد کاظمی سے)پنجاب کے سرکاری سکولوں میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے باوجود درسی کتب کا شدید بحران برقرار، ہزاروں طلبہ تاحال کتابوں سے محروم،تعلیمی سرگرمیاں متاثر ، یکم اپریل 2026 سے تعلیمی سال شروع ہوا مگر 18 اپریل تک بھی تقریباً 25 فیصد طلبہ کو نصابی کتب فراہم نہ کی جا سکیں۔ مفت کتابوں کی عدم دستیابی پر اساتذہ کو تدریس میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ، طلبہ بھی پڑھائی سے پیچھے رہنے لگے جبکہ نجی مارکیٹ میں بھی نصابی کتب نایاب ہو چکی ہیں۔ اردو بازار میں کتابوں کی قلت نے والدین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے ، جہاں والدین گھنٹوں کتابوں کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔ذرائع کے مطابق کم کتابیں شائع کرنے کا فیصلہ اور بک بینک منصوبے کی ناکامی اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ گزشتہ سال کی استعمال شدہ کتابیں بھی ناقابلِ استعمال نکلیں جس سے قلت مزید بڑھ گئی۔اساتذہ کا کہنا ہے کہ کتابوں کے بغیر مؤثر تدریس ممکن نہیں جبکہ طلبہ مختلف دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب سی ای او پیکٹا موسیٰ بخاری کا دعویٰ ہے کہ 95 فیصد مفت کتابوں کی سپلائی مکمل ہو چکی ہے تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ نے حکومت سے فوری ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بچوں کی تعلیم کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں