واسا کا ماسٹر پلان زیرالتوا:بڑے سیوریج منصوبے شروع نہ ہوسکے،مسائل برقرار
گلبرگ، فیروز پور روڈ ، جوہر ٹاؤن میں اربوں کے منصوبے بجٹ کا حصہ بن سکے نہ ہی حکومت سے منظوری لی گئی،شہریوں کیلئے سیوریج نظام کی بہتری تاحال خواب
لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور میں سیوریج کے بڑے منصوبے برسوں سے تعطل کا شکار، شہری مسائل میں مسلسل اضافہ،واسا کا ماسٹر پلان 2040 سات سال گزرنے کے باوجود عملی شکل اختیار نہ کر سکا،اربوں روپے کے منصوبے بجٹ کا حصہ بن سکے نہ ہی حکومت سے منظوری لی گئی۔اہم شاہراہوں اور گنجان علاقوں میں سیوریج نظام کی بہتری تاحال خواب بن کر رہ گئی۔ ذرائع کے مطابق لاہور شہر میں سیوریج مسائل حل کیلئے تیار کیا گیا واسا کا ماسٹر پلان 2040 عملی اقدامات کا منتظر ہے ۔ 2019 میں منظوری کے باوجود واسا انتظامیہ نہ تو ان منصوبوں کو حکومتی سطح پر منظور کروا سکی اور نہ ہی انہیں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کروایا جا سکا۔ماسٹر پلان کے تحت شہر کے 3 اہم اور گنجان آباد علاقوں میں سیوریج انفراسٹرکچر کی مکمل تبدیلی کا منصوبہ بنایا گیا تھا تاہم اسکے برعکس واسا نے ترجیحات تبدیل کرتے ہوئے نواحی علاقوں میں کام کا آغاز کر دیا جس سے مرکزی شہری علاقوں کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔گلبرگ، فیروز پور روڈ اور جوہر ٹاؤن جیسے اہم علاقوں کیلئے نہ تو حکومتی فنڈز فراہم کیے گئے اور نہ ہی کوئی غیر ملکی گرانٹ حاصل ہو سکی۔
منصوبہ بندی کے مطابق گلبرگ، فیروز پور روڈ اور جناح ہسپتال کے اطراف ٹرنک سیور بچھانے کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھا جس کیلئے ابتدائی طور پر 20 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیاتاہم تاخیر پر لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے ۔ گلبرگ میں بلند و بالا عمارتوں کے سیوریج نظام کو بہتر بنانے کیلئے 4ارب 76کروڑ کا تخمینہ لگایا گیا ، کینال روڈ پر شاہ دی کھوئی سے ٹھوکر نیاز بیگ تک سیوریج سسٹم کیلئے 1ارب 86 کروڑ مختص کیے گئے ۔ اسی طرح فیروز پور روڈ کے سیوریج انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کیلئے 11ارب92کروڑ کا منصوبہ بھی فائلوں میں دب کر رہ گیا۔ واسا انتظامیہ نے ناصرف ان منصوبوں کو ترقیاتی پروگرام کا حصہ بنانے میں غفلت برتی بلکہ منظوری کیلئے متعلقہ فورمز سے بھی رجوع نہ کیا، جس سے ماسٹر پلان 2040 میں شامل یہ 3 بڑے منصوبے آج بھی پیشرفت کے منتظر ہیں۔بروقت منصوبہ بندی پر عملدرآمد کیا جاتا تو نا صرف شہر کو درپیش سیوریج مسائل میں کمی آ سکتی تھی بلکہ بڑھتی لاگت سے بھی بچا جا سکتا تھا تاہم یہ منصوبے اب بھی حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔