سرکاری ، کمرشل عمارتوں کو سولر پر منتقلی سست روی کاشکار
نئے ڈسپوزل سٹیشنز اور ٹیوب ویلز کو سولر منتقلی کا منصوبہ فائلوں کی نذر
لاہور (شیخ زین العابدین)پٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے بحران کے بیچ متبادل توانائی کا حل بھی سست روی کا شکار ہو گیا،پنجاب بھر میں سولرائزیشن منصوبے فائلوں میں الجھ کر رہ گئے ،اربوں روپے کے منصوبے پالیسی کے انتظار میں تعطل کا شکار ہیں اور لاہور سمیت بڑے شہروں میں سرکاری و کمرشل عمارتوں کی سولر منتقلی رک سی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق ملک میں توانائی بحران شدت اختیار کر رہا ہے ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے جہاں شہریوں اور صنعت کو متاثر کیا، وہیں متبادل توانائی یعنی سولرائزیشن کا عمل بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے ۔پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اور کمرشل عمارتوں کو سولر پر منتقل کرنے کی واضح ہدایات کے باوجود عملی پیش رفت سست روی کا شکار ہے ۔ لاہور سمیت مختلف شہروں میں متعدد منصوبے شروع ہی نہ ہو سکے ، جبکہ کئی جاری سکیمیں بھی تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔سی بی ڈی ایریا میں سی بی ڈی واک پر ایک میگاواٹ سولر منصوبہ، جس کی منصوبہ بندی فروری 2026 میں کی گئی اور جس پر تیس کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا، تاحال عملدرآمد کا منتظر ہے ۔ حکام کے مطابق منصوبہ مکمل طور پر تیار ہے مگر نیپرا پالیسی کے اجرا کے بعد ہی ٹینڈر ایوارڈ کیا جائے گا۔