فنڈز کی کمی،واسا کے بیشتر منصوبے سست روی کا شکار
سڑکوں پر شگاف پڑنے کا خدشہ برقرار،اربوں روپے کے منصوبے شروع تو ہوئے ، مگر کئی سکیمیں تاحال ادھوری اچھرہ اور پراچہ کالونی سے گجر چوک شاہدرہ تک سیوریج لائنیں تبدیل نہ ہو ئیں، بوسیدہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی جاری :انتظامیہ
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )مون سون سر پر، مگر لاہور کی بوسیدہ سیوریج لائنیں آج بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں،شہر کی سات مرکزی لائنیں تبدیل نہ ہو سکیں، سڑکوں پر شگاف پڑنے کا خدشہ برقرار،اربوں روپے کے منصوبے شروع تو ہوئے ، مگر کئی سکیمیں تاحال ادھوری۔ تفصیلات کے مطابق مون سون کی آمد سے قبل لاہور میں بوسیدہ سیوریج انفراسٹرکچر ایک بار پھر تشویش کا باعث بن گیا ہے ۔ واسا کی متعدد مرکزی سیوریج لائنیں خستہ حالی کا شکار ہیں، جبکہ ان کی تبدیلی کے منصوبے مکمل نہ ہونے سے مختلف علاقوں میں سڑکوں پر شگاف پڑنے اور سیوریج نظام بیٹھ جانے کا خطرہ برقرار ہے ۔گزشتہ مالی سال شہر کی آٹھ بڑی سیوریج لائنوں کی تبدیلی کا آغاز کیا گیا تھا، تاہم ان میں سے سات منصوبے تاحال مکمل نہیں ہو سکے ۔ ذرائع کے مطابق واسا نے ان سکیموں کے لیے پنجاب حکومت سے فنڈز طلب کیے ، منظوری بھی حاصل ہوئی، مگر مکمل فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث بیشتر منصوبے سست روی یا تعطل کا شکار ہو گئے ۔
حاجی پارک راجگڑھ سے اسلام پورہ تک مرکزی سیوریج لائن شدید بوسیدہ ہو چکی ہے ، جہاں ماضی میں متعدد بار شگاف پڑنے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔اسی طرح لیاقت چوک سے سید پور سبزہ زار تک سیوریج لائن کی تبدیلی کے لیے 22 کروڑ 27 لاکھ روپے کی سکیم تیار کی گئی، لیکن اس پر بھی تاحال کام شروع نہ ہو سکا۔ رحمت علی روڈ، ملت چوک، الممتاز روڈ اور ندیم شہید روڈ سمن آباد کے منصوبے بھی ادھورے پڑے ہیں۔بکر منڈی سے بند روڈ، گنج بخش روڈ، ملحقہ آبادیوں، مین مسلم روڈ اچھرہ اور پراچہ کالونی سے گجر چوک شاہدرہ تک سیوریج لائنوں کی تبدیلی کے منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ تمام التوا شدہ منصوبوں کی مجموعی لاگت ایک ارب 36 کروڑ 2 لاکھ 97 ہزار روپے سے زائد بنتی ہے ، تاہم اربوں روپے مختص ہونے کے باوجود شہر میں سیوریج لائنوں کے ٹوٹنے اور سڑکیں بیٹھنے کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔ دوسری جانب واسا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مرحلہ وار بوسیدہ سیوریج لائنوں کی تبدیلی کا کام جاری ہے اور اب تک شہر کی پانچ مرکزی لائنیں تبدیل کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی منصوبوں پر بھی دستیاب وسائل کے مطابق پیش رفت کی جا رہی ہے ۔