نئے ڈی سی ریٹ اجرا میں تاخیر،عبوری پالیسی پر غور
نیا جاری ہونے تک مالی سال 2025-26 کے ڈی سی ریٹ پر مشروط چالان جاری کیے جائیں گے تاکہ ٹرانزیکشنز کا سلسلہ دوبارہ بحال کیا جا سکےڈی سی ریٹ میں تاخیر سے پراپرٹی ٹرانسفر، فیسوں کا تعین ، چالانوں کے اجرا کا عمل تعطل کا شکار ، ون ونڈو سروسز بھی متاثر ،شہریوں کومشکلات
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )ایل ڈی اے میں نئے ڈی سی ریٹ کے اجرا میں تاخیر کے باعث پراپرٹی ٹرانسفر، فیسوں کے تعین اور چالانوں کے اجرا کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے ۔ ون ونڈو آپریشن پر آنے والے شہریوں کو اپنے معاملات کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ متعدد درخواستیں زیر التوا پڑی ہیں۔صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایل ڈی اے انتظامیہ نے عبوری پالیسی پر غور شروع کر دیا ۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق حکومت کی جانب سے نئے ڈی سی ریٹ جاری ہونے تک مالی سال 2025-26 کے ڈی سی ریٹ کی بنیاد پر مشروط چالان جاری کیے جائینگے تاکہ ٹرانزیکشنز کا سلسلہ دوبارہ بحال کیا جا سکے ۔مجوزہ طریقہ کار میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ اگر بعد ازاں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ نیا ڈی سی ریٹ سابقہ نرخوں سے کم ہوا تو درخواست گزار سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس کر دی جائیگی۔ اسی طرح اگر نئے نرخ زیادہ مقرر کیے گئے تو بقایا واجبات متعلقہ درخواست گزار سے وصول کیے جائینگے ۔ایل ڈی اے ذرائع کے مطابق اس پالیسی کو مختلف ہاؤسنگ سکیموں پر لاگو کرنے کی تجویز زیر غور ہے جن میں ایل ڈی اے سٹی، ایل ڈی اے ایونیو ون اور جوبلی ٹاؤن شامل ہیں۔ جوہر ٹاؤن، علامہ اقبال ٹاؤن، مصطفی ٹاؤن، چائنا سکیم، گجرپورہ، موہلنوال اور دیگر سکیموں میں بھی زیر التوا پراپرٹی معاملات نمٹانے کیلئے اسی طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی سی ریٹ اجرا میں تاخیر پرون ونڈو سروسز متاثر ہونے سے شہریوں کے روزمرہ قانونی ومالی معاملات بھی سست روی کا شکار ہیں۔ اسی لیے ایل ڈی اے نے ایسے عبوری حل کی تیاری شروع کی ہے جس سے ٹرانسفر اور چالانوں کے اجرا کا عمل رکے بغیر جاری رکھا جا سکے تاہم یہ مجوزہ پالیسی تاحال حتمی منظوری کی منتظر ہے اور اسکے نفاذ کا فیصلہ ڈی جی ایل ڈی اے کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا۔ منظوری سے ایل ڈی اے میں رکے ہوئے پراپرٹی ٹرانسفر اور دیگر متعلقہ معاملات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments