بارشی پانی ذخیرہ کرنے کیلئے منصوبے ابھی تک ادھورے

بارشی پانی ذخیرہ کرنے کیلئے منصوبے ابھی تک ادھورے

محکمہ ہائوسنگ اور واسا کے مشترکہ منصوبے عملی مرحلے میں داخل نہ ہو سکے

لاہور (شیخ زین العابدین)مون سون شروع مگر گزشتہ برس لاہور میں بارشی پانی کے بہتر انتظام کیلئے شروع کیے گئے متعدد منصوبے ابھی تک ادھورے ہیں۔پارکس، گرین بیلٹس اور ریچارج ویلز کے ذریعے اربن فلڈنگ کے خطرات کم کرنے کا منصوبہ کئی مقامات پر سست روی کا شکار ہے ۔ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ اور واسا کے مشترکہ منصوبے میں چند مقامات پر پیشرفت ضرور ہوئی تاہم بیشتر منصوبے عملی مرحلے میں داخل نہ ہو سکے ۔ذرائع کے مطابق ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اور واسا کی جانب سے پارکس، گرین بیلٹس اور اہم شاہراہوں پر گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تاکہ بارشی پانی کو زیرِ زمین ذخائر کا حصہ بنایا جا سکے ۔منصوبے کے تحت لاہور کے 50سے زائد پارکس اور 15 گرین بیلٹس کو شامل کیا گیا تاہم بیشتر مقامات پر عملی کام کا آغاز ہی نہ ہو سکا۔ سروے مکمل ہونے کے باوجود محدود تعداد میں مقامات پر ہی تعمیراتی سرگرمیاں شروع کی گئیں۔دستاویزات کے مطابق گنج بخش ٹاؤن کے چھ، راوی ٹاؤن کے چار اور گلبرگ ٹاؤن کے دو پارکس میں ریچارج سسٹم کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی، دیگر منتخب پارکس اور گرین بیلٹس بھی منصوبے پر پیشرفت کے منتظر ہیں۔گلبرگ کے لبرٹی چوک، مراتب علی روڈ اور ایچ بلاک میں ریچارج ویلز کی تعمیر مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تاہم جوہر ٹاؤن کے اللہ ہو چوک، جی تھری بلاک اور بی بلاک میں یہ کام تاحال مکمل نہ ہو سکا۔گراؤنڈ واٹر ریچارج ویلز دسمبر تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...