مین ہولز کو محفوظ بنانے کا منصوبہ سست روی کا شکار

مین ہولز کو محفوظ بنانے کا منصوبہ سست روی کا شکار

لاکھوں مین ہولز حفاظتی جالیوں سے محروم ، مون سون کے دوران حادثات کا خدشہ،صرف 2000ہولز پر سیفٹی نیٹ لگےپائلٹ مرحلے کے بعد منصوبے کی رفتار برقرار نہ رہ سکی،مین ہولز پر سیفٹی نیٹ لگانے کا کام مکمل طور پر بند نہیں ہوا:واسا انتظامیہ

لاہور (شیخ زین العابدین)لاہور سمیت پنجاب بھر میں مین ہولز کو محفوظ بنانے کا منصوبہ سست روی کا شکار ہو گیا ہے ۔ لاکھوں مین ہولز آج بھی حفاظتی جالیوں سے محروم ہیں، جبکہ مون سون کے دوران ان سے حادثات کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق بارشوں کے موسم میں کھلے یا غیر محفوظ مین ہولز شہریوں، خصوصاً بچوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ انہی خدشات کے پیشِ نظر محکمہ ہاؤسنگ کی ہدایت پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں مین ہولز کے اندر حفاظتی سیفٹی نیٹ نصب کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا ۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں لاہور کے مختلف علاقوں میں تقریباً دو ہزار مین ہولز پر سیفٹی نیٹ لگائے گئے ، تاہم پائلٹ مرحلے کے بعد اس منصوبے کی رفتار برقرار نہ رہ سکی اور مزید مین ہولز تک اس کا دائرہ کار تاحال نہیں بڑھایا جا سکا۔اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں تقریباً تین لاکھ پچیس ہزار جبکہ پنجاب بھر میں بیس لاکھ سے زائد مین ہول موجود ہیں، لیکن ان کی بڑی تعداد اب بھی حفاظتی نیٹ سے محروم ہے ۔دوسری جانب واسا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مین ہولز پر سیفٹی نیٹ لگانے کا کام مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ تاہم زمینی صورتحال یہی بتاتی ہے کہ لاکھوں مین ہولز اب بھی حفاظتی جالیوں سے محروم ہیں، جبکہ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ منصوبے کو محدود پیمانے تک رکھنے کے بجائے پورے لاہور اور پھر پنجاب بھر میں تیزی سے مکمل کیا جائے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...