الیکٹرک ٹیکسی سکیم کو وسعت دینے کا منصوبہ تاخیر کا شکار
توسیعی منصوبے کے لیے فنڈز کے اجرا میں تاخیر کے باعث حکومتی منصوبے پر عملی پیش رفت نہ ہو سکی، محکمہ ٹرانسپورٹ کو جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت امیدواروں کے انتخاب کیلئے رجسٹریشن نئے سرے سے شروع کرنے کا فیصلہ ، پنجاب بینک نئی درخواستیں لے گا،پہلی درخواستوں کا ڈیٹا استعمال نہیں ہوگا
لاہور( سٹاف رپورٹر سے )پنجاب میں ماحول دوست سفری سہولت کے فروغ کے لیے شروع کی گئی الیکٹرک ٹیکسی سکیم کو وسعت دینے کا حکومتی منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا ہے ۔لاہور کے لیے موجودہ ہدف گیارہ سو الیکٹرک ٹیکسیوں کا ہے ، جسے بڑھا کر پندرہ سو کرنے کی تیاری کی گئی ہے ۔ اس مقصد کے لیے مزید چار سو نئی الیکٹرک ٹیکسیاں خریدنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا، تاہم خریداری کا عمل تاحال آگے نہیں بڑھ سکا۔ذرائع کے مطابق توسیعی منصوبے کے لیے فنڈز کے اجرا میں تاخیر کے باعث حکومتی منصوبے پر عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔ محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب کو اب منصوبے کے انتظامی اور عملی امور مکمل کرنے کے ساتھ جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے الیکٹرک ٹیکسی منصوبے کی توسیع کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ضروری اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔
دوسری جانب نئے مرحلے میں امیدواروں کے انتخاب کے لیے رجسٹریشن کا عمل بھی نئے سرے سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔بینک آف پنجاب نئی درخواستیں وصول کرے گا، جبکہ پہلے مرحلے میں جمع کرائی گئی درخواستوں اور ڈیٹا کو نئے مرحلے میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔حکومت کے فیصلے کے مطابق تمام امیدواروں سے دوبارہ اظہارِ دلچسپی طلب کیا جائے گا ۔الیکٹرک ٹیکسی سکیم کے پہلے مرحلے میں شہریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر 66 ہزار 10 افراد نے رجسٹریشن کرائی، جبکہ 22 ہزار 882 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔اب نئے مرحلے میں تازہ درخواستیں طلب کرکے امیدواروں کا انتخاب نئے سرے سے کیا جائے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments