17سال بعد بھی ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس پر فیصلہ نہ ہوسکا

 17سال بعد بھی ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس پر فیصلہ نہ ہوسکا

بجٹ میں فنڈز بھی رکھے گئے ،فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کا منصوبہ التوا کا شکار

لاہور ( شیخ زین العابدین )لاہور کے گندے پانی کو صاف کرنے کا منصوبہ 17 سال بعد بھی عملی فیصلے کا منتظر ہے ، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب نہ ہونے سے پانی کی آلودگی کا مسئلہ برقرار ہے ۔موہلنوال اور فیروز پور روڈ ہڈیارہ ڈرین کے دو منصوبوں کی باقاعدہ منظوری 2018 میں دی گئی، فزیبیلیٹی رپورٹس کی تیاری کے لیے کروڑوں روپے بھی مختص کیے گئے ۔مگر واسا تین سال میں بھی دونوں منصوبوں کی فزیبلٹی مکمل نہ کر سکا، گزشتہ مالی سال کے مختص فنڈز بھی جاری نہ ہوئے۔

رواں مالی سال دونوں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے لیے ساڑھے آٹھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، مگر منصوبوں کی عملی پیش رفت تاحال سوالیہ نشان ہے ۔ذرائع کے مطابق صاف پانی کے ذخائر اور ماحول کے لیے بڑھتا ہوا مسئلہ، مگر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا منصوبہ برسوں سے فائلوں میں گردش کر رہا ہے ۔شہر لاہور میں 17 سال گزرنے کے باوجود کسی ایک ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ پر حتمی فیصلہ نہ ہوسکا۔گندے پانی کو صاف کرنے کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں چھوٹے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی منصوبہ بندی کی گئی، بجٹ میں فنڈز بھی رکھے گئے ، لیکن عملی پیش رفت نہ ہوسکی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...