اپیل میں6سال کی تاخیر معاف کرانے کی درخواست مسترد

 اپیل میں6سال کی تاخیر معاف کرانے کی درخواست مسترد

وکیل کا غلط مشورہ، قانون سے لاعلمی تاخیر معاف کرنے کیلئے کافی نہیں:عدالت

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے محمد حسن ستار کے معاملے میں دائر اپیل خارج کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال اور جسٹس ملک محمد اویس خالد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے واپڈا ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی جانب سے دائر سول ریگولر فرسٹ اپیل پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ وکیل کا غلط مشورہ، غفلت یا قانون سے لاعلمی بذاتِ خود تاخیر معاف کرنے کیلئے کافی نہیں۔ عدالت نے اپیل دائر کرنے میں 2294 دن کی تاخیر معاف کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مرکزی اپیل بھی مقررہ مدت گزرنے کے باعث خارج کر دی۔عدالتی فیصلے کے مطابق محمد حسن ستار اور دیگر نے 20 ستمبر 2014 کے معاہدہ فروخت پر عمل درآمد کیلئے دعویٰ دائر کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے سوسائٹی کے خلاف 28 ستمبر 2019 کو دعویٰ منظور کیا اور درخواست گزاروں کے حق میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔

 سوسائٹی نے اس فیصلے کے خلاف 28 اکتوبر 2019 کو ڈسٹرکٹ جج ملتان کی عدالت میں اپیل دائر کی تاہم یہ اپیل دائرہ اختیار نہ ہونے کے باعث 5 مارچ 2026 کو واپس کر دی گئی۔ بعد ازاں سوسائٹی نے 16 اپریل 2026 کو لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ سے رجوع کیا اور تاخیر معاف کرنے کی استدعا کی۔عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ معاملے میں غلط فورم پر اپیل دائر کرنے اور اسے چھ سال سے زائد عرصے تک زیرِ التوا رکھنے کے عمل کو محض نیک نیتی کی بنیاد پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا ،پرانے دعوؤں میں محض زبانی مؤقف یا عمومی وضاحت کی بنیاد پر قانونِ میعاد کی پابندیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے تاخیر معاف کرنے کیلئے قانونِ میعاد کی دفعہ 5 اور دفعہ 14 کے تحت دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے مرکزی اپیل بھی ناقابلِ سماعت ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...