ریلوے ہسپتالوں میں ادویات نایاب،سہولیات کا فقدان،ملازمین دربدر

ریلوے ہسپتالوں  میں  ادویات  نایاب،سہولیات  کا  فقدان،ملازمین  دربدر

ملتان(شفقت بھٹہ)ریلوے ہسپتالوں میں سہولیات کی کمی، ادویات نایاب، ملازمین کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ ملتان سمیت مختلف شہروں میں قائم ریلوے ہسپتالوں میں ملازمین کو مناسب سہولیات کی فراہمی قصہ پارینہ بن چکی۔

ایمرجنسی میں کتے کاٹنے اور سانپ کے ڈسنے کی ادویات دستیاب نہیں ہوتیں، روزمرہ کی ادویات کے لئے بھی ریلوے مریض پرائیویٹ مارکیٹ کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، سرنج اور سٹک تک مہیا نہیں کی جاتی۔ خیال رہے کہ پاکستان ریلوے کے زیر انتظام ملتان، لاہور، پشاور، کراچی، سکھر، کوئٹہ اور راولپنڈی میں سرکاری ہسپتال کام کر رہے ہیں، یہ ہسپتال برطانوی راج کے دوران بنائے گئے تھے ، جہاں ریلوے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر ٹرین کے مسافروں کو بھی ایمرجنسی کی صورت میں طبی امداد کی فراہمی کیلئے ان ریلوے ہسپتالوں اور ان کے عملہ کی خدمات لی جاتی ہیں۔ یہ ہسپتال مختلف شہروں میں وسیع و عریض اراضی پر قائم ہیں اور اس اراضی کی قیمت بھی اس وقت اربوں روپے ہے ، تاہم ریلوے کے زوال کیساتھ ان ہسپتالوں کا نظام بھی خراب ہوتا گیا اور آج حالت یہ ہے کہ ریلوے ہسپتال ملتان میں 500بستروں کی گنجائش ہے لیکن آدھے بھی دستیاب نہیں۔ ملتان سمیت مختلف شہروں میں ریلوے ہسپتالوں میں مسافر تو درکنار ملازمین کو بھی سہولیات کی فراہمی قصہ پارینہ بن چکی ہے ۔ ان ہسپتالوں کو عملہ، جدید آلات، ادویات غرض ہر چیز کی کمی کا سامنا ہے ۔ جو عملہ تعینات ہے اس نے بھی غیر حاضر رہنا معمول بنا لیا ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر اور ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے سابقہ حکومت نے انہیں نجی شعبہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ ریلوے کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ریلوے کے زیر انتظام تمام ہسپتالوں کو مرحلہ وار اپ گریڈ کیا جائے گا، اس ضمن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ نہیں ہو گی، ریلوے خود ہسپتالوں میں جدت لائے گا۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں