حکام کی غفلت، صدیوں پرانے باغ اجڑ گئے

حکام  کی  غفلت، صدیوں  پرانے  باغ  اجڑ  گئے

ملتان(شفقت بھٹہ)حکام کی غفلت کے باعث کئی سو سال پرانے باغ اجڑ گئے ، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے باغ لانگے خان، عام خاص باغ اور قلعہ کہنہ قاسم باغ کی پرانی آب و تاب بھی ماند ہو چکی۔

نشئیوں، آوارہ اور جرائم پیشہ افراد نے بھی ڈیرے جما لئے جبکہ سابقہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے حضوری باغ، دیوان کا باغ، باغ بیگی کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے ۔ تفصیل کے مطابق تاریخی شہر ملتان کے صدیوں پرانے باغ ضلعی انتظامیہ کی ناقص پالیسیوں کے باعث اجڑ چکے ہیں۔ کہیں سبزہ اور سر سبز و شاداب پودے اور کہیں چٹیلے میدان پی ایچ اے کی نااہلی کا واضح ثبوت ہیں۔ دوسری جانب ملتان کا تاریخی ورثہ کئی سو سال پرانے باغ نام و نشان باقی نہ رہنے کے باعث اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں جن میں حضوری باغ، دیوان کا باغ اور باغ بیگی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ باغ لانگے خان ایک عرصہ تک بوہڑ گیٹ کے باہر کڑی افغاناں سے متصل مقبول ترین تفریح گاہ رہی ہے ۔ مگر انتظامیہ کی غلط ترجیحات کے باعث باغ لانگے خان کا نصف سے زائد کا حصہ سول ہسپتال اور چلڈرن کمپلیکس کی نذر کیا جا چکا ہے تا ہم باغ لانگے خان میں تعمیر واسا کے دفاتر اب منہدم کئے جا چکے ہیں۔

باغ لانگے خان کو دو سو سال قبل نواب لانگے خان نے تعمیر کرایا تھا جسے بعد میں گورنر ملتان زاہد خان کی جانب سے 12 ہزار روپے میں لانگے خان سے خرید کر عوام الناس کے لئے وقف کر دیا گیا۔ دولت گیٹ کے باہر عوامی تفریح گاہ عام خاص باغ کو مغلیہ دور میں قائم کیا گیاجسے بعد میں ملتان کے گورنروں سے اسے اپنی اقامت گاہ بھی بنائے رکھی۔قلعہ کہنہ پر واقع قاسم باغ بھی اپنی تاریخی حیثیت رکھتا ہے مگر ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے نشہ کے عادی افراد دن چڑھے تک اس کے بنچوں پر اور درختوں کے سائے تلے سوئے رہتے ہیں جو باغ میں آنے والی خواتین کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔اس باغ کے جھولے اور سلائیڈرز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے نصب واٹر کولر کی ٹونٹیاں غائب اور پینے کو ایک قطرہ بھی دستیاب نہیں۔ علاوہ ازیں باغ لانگے خان بھی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اپنی افادیت کھو چکا ہے ۔ رات کے وقت باغ کا بیشتر حصہ تاریکی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے ۔ دریں اثناء مغلیہ دور میں خورشید کالونی روڈ پر قائم کیا جانے والا حضوری باغ اب بڑھتی ہوئی آبادی کی نذر ہو چکا ہے ۔ انگریز دور میں یہ باغ کمشنر ملتان کی اقامت گاہ بھی رہی۔ حاکم ملتان کی نسبت سے اسے حضوری باغ کہا جانے لگا۔ ماضی کے حکمرانوں کی غفلت کے باعث آج اس باغ کا کوئی وجود نہیں۔ موجودہ نواب پور روڈ پر بنایا جانے والا دیوان کا باغ بھی ماضی کا حصہ بن چکا ہے ۔ دریں اثناء ‘‘باغ بیگی’’ ایک عرصہ تک ملتان کی شناخت رہامگر ریلوے سٹیشن کے قریب اب اس کا نام باقی ہے اور باغ کی اراضی اب رہائش گاہوں میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ ملتان شہر کی چھائونی کی حدود میں واقع کمپنی باغ بھی اپنی تاریخی حیثیت رکھتا ہے جسے انگریز دور میں قائم کیا گیا تاہم صدیاں گزر جانے کے باوجود بہتر سہولیات اور مناسب دیکھ بھال کے باعث یہ باغ اپنی مثال آپ ہے ۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں