جنوبی پنجاب:ناخواندگی میں ہو شرباء اضافہ

جنوبی پنجاب:ناخواندگی میں ہو شرباء اضافہ

راجن پور سرفہرست ،64فیصد بچے تعلیم سے محروم ،ڈی جی خان ، رحیم یار خان ،مظفر گڑھ ، لودھراں بھی تعلیمی پسماندگی کا شکار، نصف بچوں نے سکول کا دروازہ بھی نہ دیکھا ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، پاکپتن ،تونسہ، وہاڑی میں شرح خواندگی 53سے 61فیصد کے درمیان ، پڑھا لکھا پنجاب کا نعرہ کاغذوں میں دفن، عوامی حلقوں کا اظہار تشویش

ملتان (خصوصی رپورٹر)جنوبی پنجاب میں شرح خواندگی خطرناک حد کو چھونے لگی،راجن پور سب سے پسماندہ ضلع بن گیا تفصیل کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے جاری کردہ تازہ چارٹ کے مطابق پنجاب میں ضلع وار شرحِ خواندگی میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا ہے صوبے کے کم شرحِ خواندگی والے اضلاع میں راجن پور سرفہرست ہے جہاں شرحِ خواندگی تقریباً 36 فیصد کے لگ بھگ ہے ، جبکہ ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، مظفرگڑھ اور لودھراں جیسے اضلاع بھی پسماندہ فہرست میں شامل ہیں جہاں شرح 50 فیصد کے آس پاس یا اس سے کچھ زائد ہے جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع بہاولپور، بہاولنگر، پاکپتن، تونسہ، کوٹ ادو، وہاڑی اور ملتان میں شرحِ خواندگی 53 سے 61 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے ۔دوسری جانب وسطی پنجاب کے اضلاع جھنگ، اوکاڑہ، خانیوال، لیہ، خوشاب، قصور، میانوالی اور ننکانہ صاحب میں یہ شرح 60 سے 65 فیصد کے درمیان رہی۔ بہتر کارکردگی دکھانے والے اضلاع میں سرگودھا، حافظ آباد، شیخوپورہ، اٹک، منڈی بہاؤالدین، ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، وزیرآباد، چکوال اور سیالکوٹ شامل ہیں جہاں شرحِ خواندگی 68 سے 78 فیصد تک پہنچ چکی ہے صوبے میں سب سے زیادہ شرحِ خواندگی لاہور، گجرات، جہلم، راولپنڈی اور مری میں ریکارڈ کی گئی، جہاں یہ شرح 80 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار تعلیمی سہولیات، شہری و دیہی فرق اور معاشی حالات کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ محکمہ تعلیم پنجاب کے لئے یہ ایک واضح اشارہ ہیں کہ پسماندہ اضلاع میں ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی اصلاحات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ناگزیر ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں