سرکاری دفاتر میں ٹاؤٹس کی مداخلت، تشویش بڑھ گئی
عوامی و سماجی حلقوں نے بلیک میلنگ میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کا مطالبہ
وہاڑی(نمائندہ خصوصی)مختلف سرکاری دفاتر میں خودساختہ صحافیوں اور ٹاؤٹس کی بڑھتی ہوئی مداخلت پر سرکاری ملازمین اور شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ مختلف محکموں میں تعینات اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بعض عناصر جرنلسٹ اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کا روپ دھار کر دفاتر میں بے جا مداخلت کررہے ہیں اور ملازمین کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ذرائع کے مطابق ہسپتال، تحصیل آفس، لینڈ ریکارڈ سنٹر، بلدیہ، ضلع کونسل، محکمہ صحت، تعلیم، ایکسائز، ٹریفک پولیس، لائسنسنگ برانچ اور تھانوں میں ایسے افراد کی آمدورفت معمول بن چکی ہے ۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ قانونی اعتراضات والے کام نہ کرنے پر انہیں دھونس، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بعض عناصر روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ بنیادوں پر مبینہ طور پر نقد رقوم اور دیگر مراعات کا مطالبہ کرتے ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گروہوں کی صورت میں دفاتر آنے والے یہ عناصر ملازمین کیلئے مشکلات پیدا کررہے ہیں جس سے دفتری امور متاثر ہورہے ہیں۔ شہریوں نے ڈپٹی کمشنر خالد جاوید گورایہ اور ڈی پی او تصور اقبال سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف خفیہ اداروں سے رپورٹس طلب کرکے موثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ سرکاری دفاتر میں نظم و ضبط بحال ہوسکے ۔