زرعی یونیورسٹی میں حیاتیاتی تنوع پر عالمی کانفرنس کا آغاز

زرعی یونیورسٹی میں حیاتیاتی تنوع پر عالمی کانفرنس کا آغاز

15ممالک کے ماہرین کی شرکت، موسمیاتی تبدیلی اور کم کاربن زراعت پر گفتگو

ملتان (خصوصی رپورٹر)زرعی یونیورسٹی میں حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن 2026 کے موقع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ کانفرنس کا انعقاد زرعی یونیورسٹی ملتان، پنجاب زرعی تحقیقی بورڈ، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیسکو چیئر آن لو کاربن اینڈ سسٹین ایبل ایگریکلچر کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے ۔کانفرنس میں پاکستان سمیت 15 ممالک کے سائنس دان، محققین، اساتذہ، طلبہ اور پالیسی ساز اداروں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔  اس موقع پر 100 سے زائد تحقیقی خلاصہ جات پیش کئے گئے ، جن میں حیاتیاتی تنوع، موسمیاتی تبدیلی، جنگلی حیات، پانی کے وسائل اور کم کاربن زراعت جیسے موضوعات شامل ہیں۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع انسانی زندگی، زراعت، پانی، مٹی اور معیشت کی بنیاد ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خصوصاً جنوبی پنجاب کو پانی کی کمی، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے ، جس کیلئے تحقیق اور عملی پالیسیوں کو یکجا کرنا ضروری ہے ۔کانفرنس میں جرمنی، چین، برطانیہ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے بھی خطاب کیا اور موسمیاتی تبدیلی، نباتاتی تنوع، جنگلی حیات کے تحفظ اور پائیدار زراعت پر اظہار خیال کیا۔ دوسرے روز کم کاربن زراعت، پانی کے مؤثر استعمال اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں مقامی آبادی کے کردار پر خصوصی نشستیں منعقد ہوں گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں