بار فنڈز سے تفریحی ٹورز پر پنجاب بار کونسل کی پابندی
غلط استعمال پر رقم ریکوری، ڈسپلنری کارروائی اور پریکٹس لائسنس معطلی کا حکم
ملتان (کورٹ رپورٹر)پنجاب بار کونسل نے صوبہ بھر کی بار ایسوسی ایشنز کے فنڈز کے استعمال سے متعلق اہم حکم جاری کرتے ہوئے بار فنڈز سے پکنک، تفریحی ٹورز اور ذاتی تفریح پر پابندی عائد کردی۔ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی نے پٹیشن نمبر 47/2026، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن تونسہ شریف بنام صابر حسین اعوان، ایڈووکیٹ و وائس پریزیڈنٹ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن تونسہ شریف کی درخواست پر 8 اگست 2026 کو تفصیلی حکم جاری کیا۔درخواست میں تحصیل بار ایسوسی ایشن تونسہ کے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال، بالخصوص تفریحی سرگرمیوں پر اخراجات کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ عہدیدار کو بار فنڈز ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔پنجاب بار کونسل نے قرار دیا کہ بار ایسوسی ایشنز کو اپنے معاملات چلانے میں ایک حد تک خودمختاری حاصل ہے ، تاہم ان کے فنڈز منتخب عہدیداروں کی بلا روک ٹوک صوابدید پر نہیں چھوڑے جاسکتے ۔ عہدیدار ممبران کے حقوق و مفادات، مناسب نمائندگی اور بار کی فلاح وبہبود کے لئے ذمہ دار ہیں، لہٰذا فنڈز کا درست استعمال بھی ان کی ذمہ داری ہے ۔
حکم میں واضح کیا گیا کہ بار فنڈز کی ایک پائی بھی ذاتی تفریح، سیر، پکنک یا ٹور پر خرچ نہیں کی جاسکتی۔ Memorandum of Association 2023 کے Rule 91(12) کے تحت فنڈز کا غلط استعمال Professional Misconduct کے زمرے میں آسکتا ہے ۔حکم کے مطابق ٹور، پکنک یا تفریحی سرگرمیوں پر بار فنڈز خرچ کرنے کی صورت میں رقم ریکور کی جاسکتی ہے جبکہ معاملہ مزید کارروائی کے لئے ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوایا جاسکتا ہے ۔ خلاف ورزی کی صورت میں پریکٹس لائسنس بھی معطل ہوسکتا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments