اساتذہ کی 62 فیصد، ہیڈ ماسٹرز کی 78 فیصد آسامیاں خالی
گریڈ 19 کے پرنسپلز کی بھی 50 فیصد نشستیں خالی، تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سوالات
ملتان (خصوصی رپورٹر)پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور انتظامی افسروں کی بڑی تعداد میں آسامیاں خالی ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں اساتذہ کی 62 فیصد آسامیاں تاحال خالی ہیں، جبکہ ہیڈ ماسٹرز کی 78 فیصد اور گریڈ 19 کے پرنسپلز کی 50 فیصد آسامیاں بھی پُر نہیں کی جا سکیں۔تعلیمی حلقوں کے مطابق تدریسی اور انتظامی عملے کی اتنی بڑی تعداد میں خالی آسامیاں سرکاری تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث طلبہ کی تدریس، سکولوں کے انتظامی امور اور مجموعی تعلیمی معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ تعلیمی نظام میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور دیگر اصلاحات کے ساتھ مکمل تدریسی عملہ اور مؤثر انتظامی ڈھانچہ بھی ضروری ہے ۔ اساتذہ کی کمی کے باعث موجودہ عملے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے ، جس سے تدریسی سرگرمیوں کا معیار متاثر ہو سکتا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلز کی بڑی تعداد میں خالی نشستیں انتظامی امور کی نگرانی اور اداروں کی مؤثر کارکردگی میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خالی آسامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پُر کیا جائے تاکہ سرکاری سکولوں میں تدریس اور انتظامی نظام کو مؤثر بنایا جا سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments