محکمہ صحت کے نیوٹریشن سپروائزر پر کرپش کے الزامات
سابقہ دور میں ریکارڈ کرپشن کی گئی،عوامی حلقوں کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
جودھ پور ،چوپڑ ہٹہ،بارہ میل(نمائندہ دنیا)محکمہ صحت خانیوال کے نیوٹریشن سپروائزر اللہ دتہ کے خلاف سابقہ دور میں ریکارڈ میں مبینہ ٹیمپرنگ، جعلی اسناد کی تیاری، مبینہ جعلی بھرتیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت مختلف الزامات سامنے آئے ہیں جبکہ عوامی حلقوں نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ذرائع کی جانب سے الرحمن نرسنگ کالج خانیوال کو مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کے برخلاف ایم او یو جاری کرنے اور ڈی ایچ کیو ہسپتال خانیوال و تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جہانیاں سے الحاق میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ ایم او یو سابق سی ای او ہیلتھ خانیوال ڈاکٹر آصف محمود اور نیوٹریشن سپروائزر اللہ دتہ کے دور میں جاری ہوا، تاہم ان الزامات کی آزادانہ اور سرکاری سطح پر تصدیق ہونا ضروری ہے ۔دوسری جانب کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کی بھرتیوں میں بھی مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق بعض امیدواروں کی مڈوائف اور ایل ایچ وی اسناد مبینہ طور پر جعلی تیار کرکے بھرتیوں میں استعمال کیے جانے کے الزامات ہیں۔ اللہ دتہ اور عبدالقیوم کے خلاف ماضی میں مبینہ جعلی اسناد اور بھرتیوں کے معاملے پر محکمہ صحت کی کارروائی اور ایف آئی آر کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔یاد رہے کہ اللہ دتہ اس وقت تحصیل ہسپتال کبیروالا میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اورانہیں مختلف انکوائریز کا بھی سامنا ہے ۔ایم ایس ڈاکٹر میثم رضا بھٹہ کا موقف ہے کہ حقائق سامنے آنے پر میرٹ کی بنیاد پر انکوائری کی جائے گی۔ عوامی حلقوں نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب، سیکرٹری ہیلتھ پنجاب، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر خانیوال سے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments