ملک کی 50فیصد آبادی کے حالات درست نہیں،کسان اتحاد
ملتان (وقائع نگار خصوصی)صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان کی 50 فیصد آبادی کے حالات ٹھیک نہیں، 40 فیصد بچوں کی غذائی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں جبکہ 25 فیصد آبادی کو پانی کی کمی کا سامنا ہے ۔
کسان اس ملک میں احتجاج بھی نہیں کر سکتا، جبکہ احتجاج کرنا نواز شریف کی سنت ہے ۔ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ صرف کسان ہی نہیں بلکہ پاکستان کی 50 فیصد آبادی بھی مشکلات کا شکار ہے ۔ ملک میں امن و امان کی صورت حال تسلی بخش نہیں، جبکہ ورلڈ بینک کی رپورٹ ہمارے لئے باعثِ شرم ہے ۔ آٹا غریب کی پہنچ سے باہر اور کھاد کسان کی قوتِ خرید سے زیادہ مہنگی ہو چکی ہے ۔ ملک میں دو کروڑ 62 لاکھ بچے سکول نہیں جا رہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس نظام اور ایمانداری کی کمی ہے ، جبکہ معیشت بہتر بنائے بغیر امن و امان کی صورت حال درست نہیں ہو سکتی۔ ملک میں گندم اور چینی پر سیاست کی جا رہی ہے ، جبکہ حکمران کشکول لے کر پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں۔خالد محمود کھوکھر نے مزید کہا کہ گندم کی پالیسی تاحال جاری نہیں کی گئی، جس کے باعث کاشتکار غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ لوگوں کو تین وقت کا کھانا میسر کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور حکمران کاشتکاروں کا معاشی قتل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اب بھی وقت ضائع کئے بغیر گندم کی امدادی قیمت کا اعلان اور پالیسی جاری کرے ، کیونکہ کسان حکومتی پالیسی واضح ہونے کے بعد ہی گندم کی کاشت کا فیصلہ کرے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments